Voice of Asia News

آل پارٹیز کانفرنس کاانعقاد، فوری معاشی ایمرجنسی اور کفایت شعاری اپنانا ناگزیر ہو چکاہے

لاہور(میاں عارف)ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے قلم مزدروں کے حکمرانوں کو چند مشورے۔۔۔ آل پارٹیز کانفرنس کاانعقاد، فوری معاشی ایمرجنسی اور کفایت شعاری اپنانا ناگزیر ہو چکاہے
سینئر امجد عتمانی، منظور قادر اور ریاض بھٹی نے اپنے اہم مشوروں سے وائس آف ایشیاء کے ذریعے حکمرانوں کو آگاہ کر دیا سینئر صحافی منظور قادر نے کہا کہ حکومت نے کسی بھی کام میں حکمت عملی نہیں اپنائی جس کی وجہ سے معاشی بحران نے جنم لیا ۔خوراک کی ایکسپورٹ کو فی الفور بند کر دینا چاہیے اور حکمرانوں کے اخراجات کو کٹ لگانا ناگزیر ہو چکا ہے موجودہ حکومت جو اقدام اٹھایا ہے وہ ابھی نا کافی ہیں حکمران خود اور عوام مل کر ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں صبح فجر وقت کاروبار کا آغاز کرے اور مغرب سے پہلے کاروبار بند کر دے اور لوگ گھروں میں بھی بجلی،گیس کااستعمال ضرورت کے وقت استعمال کریں اور مزید کاموں میں بھی سادگی اپنانا پڑے گی اس میں کوئی حرج نہیں کہ ملک میں معاشی ایمرجنسی لگا دی جائے نہیں تو ایسا طوفان آتے گا جو سب کو بہہ لے جانے گا۔
سینئر صحافی امجد عثمانی نے کہا معاشی ایمرجنسی کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو کفایت شعاری اپنانا ہو گی وزیروں مشیروں کو بڑی بڑی گاڑیاں اور جہازوں کے سفر چھوڑ کر ٹرین اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر چاہیے جس طرح عوام کی سبسڈی ختم کی جا رہی ہے اسی طرح حکمرانوں،سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کی بھی سبسڈی ختم کر دی جائے اور ان سرمایہ داروں، جاگیر داروں کو سختی کہا جائے کہ ساری زندگی آپ نے اس ملک سے کمایا ہے سب آپ کی قربانی دینے کا وقت آپہنچا ہے لہذا تجوریوں میں رکھے اربوں روپے نکالو تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے ہر بار عوام نے ہی قربانی دی ہے اب وقت ہے کہ اس قربانی میں حکمران، سرمایہ دار، جاگیر دار اور عوام مل کر اپنا اپنا حصہ ڈالے۔ اور جو زرداری، عمران خان ، نواز شریف اور دیگر سیاست دانوں کے کے پاس بڑے بڑے محلات ہیں وہ حکومت وہ ان کو فروخت کر کے ملک کو بحران سے نکال سکیں۔
اسی طرح سینیئر صحافی ریاض بھٹی نے کہا کہ اب ہم جس جگہ کھڑے ہیں کسی وقت کچھ بھی ایسا ہو سکتا ہے جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے لہذا معاشی ایمرجنسی کا لگانا ضروری ہو چکا ہے جب تک سیاسی استحکام نہیں ہو گا اس وقت تک ملک کے حالات نہیں بدل سکتے ہر حکومت کو اپنے پانچ سال پورے کرنے چاہیے اور ایک دوسرے کو برداشت کر کے ملک کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے ضرورت ہے بجلی کو بچانے کے لیے تو تجویز منظور قادر صاحب نے دی ہے اس سے دو ہزار میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے جس سے آپ اپنی صنعتوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے قابل ہو جائے گیے۔ چب کہ تینوں قلم مزدوروں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس بلوا کر تمام سیاستدانوں کو متفق ہونا ہوگا کہ بزے بڑے محلات چھوڑ کر سادہ زندگی بسر کرے گے اور گاڑیاں چھوڑ کر ٹرینوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرے گے۔ جبکہ منظور قادر نے مزید کہا اس وقت کو زیادہ خوراک کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے لیے ہم بھارت سے بھی ٹریڈ شروع کر لینا چاہیئے کاروبار میں دوست دشمن کی کوئی تمیز نہیں کاروبار، کاروبار ہوتا ہے۔ اسی طرح امجد عثمانی نے کہا کہ روس سمیت تمام ممالک سے ٹریڈ کرے میں کوئی حرج نہیں ہے اسوقت ہم گھی کے معاملے میں پریشان ہے اس کے لیے ملائیشیا سے پام آئل پر سبسڈی کی جا سکتی ہے اس کے لیے بھی حکومت کوشش کرنا ہو گی جبکہ منظور نے مزید کہا کہ جس طرح ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں نے کفایت شعاری کی مثالیں قائم کیں ہیں تمام وسائل ہونے کے باوجود سادہ ہوٹلوں میں رہنا اور سادہ زندگی بسر کرنے کو ترجیحی دیتے ہیں ہمارے حکمرانوں کو بھی سادگی اپنانا ہوگی ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا اب بھی حکمرانوں نے ٹھیک فیصلے نہیں لیے تو ہماری داستان نہ ہو گی داستانوں میں اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ۔
یوں تینوں قلم مزدوروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فوری آل پارٹیز کانفرنس بلوائی جائے تمام پارٹیوں کو مل کر قربانی دینے کے لیے تیار ہو نا گا۔ دوسرا فوری معاشی ایمرجنسی لگائی جائے اور کفایت شعاری کو اپنا منشور بنایا جائے ان پر عمل کیا جائے تو ہم بہت جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔۔۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں