Voice of Asia News

اوورسیز

اس وقت تقریباً 90لاکھ سے زائد پاکستانی دنیا بھر کے115ممالک میں رہائش پذیر ہیں انہیں طارقین وطن یا انگریزی میں(اوورسیز ) اوورسیز پاکستانی کا نام دیا جاتا ہے۔ان میں سے بہت کم ایسے ہونگے جو پاکستان میں خوشحال ہوتے ہوئے شوق سے دیار غیر سدھار ے ہوں۔ اکثریت اپنے حالات سے تنگ آکر گھر کی بہتری کیلیے دربدر ہونے اور پردیس کی مشقت سہنے پر مجبور ہوئے ان میں بیشتر کئی ممالک میں اپنے قدم جما چکے ہیں اور کئی ایک شعبوں میں کارھائے نمایاں سر انجام دے کر اپنے وطن اور گھر والوں کانام روشن کر رہے ہیں۔اور آج دنیا کی کامیاب کہانیوں کے کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں مگر زیادہ تر تعداد ایسے پردیسیوں کی ہے جو آج بھی اپنے آپ کو دن رات محنت کی چکی میں اس لیے پیس رہے ہیں تاکہ اپنے گھر والوں کو خوشیاں مہیا کر سکیں۔یہ لوگ اپنے ماں باپ،بہن بھائی بیوی بچوں سے دور رہنے پر مجبور ہیں۔سال ہاسال اپنوں کے چہرے دیکھنے کو ترستے ہیں۔ان کے پیارے اکثر ان کی غیر موجودگی میں جہاں فانی سے کوچ کر جاتے ہیں مگر یہ بے چارے ان کا آخری دیدار تک نہیں کر پاتے۔ ایک پردیسی کا سب سے بڑا دکھ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ یاکسی عزیز ترین رشتہ دار کے جنازے کو کندھا بھی نہ دے سکے ان اوورسیز کے بے حد مسائل ہیں جو کہ چند سطروں میں ناقابل بیان ہیں۔یہ لوگ نہ صرف اپنے گھروں کو چلا رہے ہیں بلکہ اپنے ملک پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر میں ان کا سب سے بڑا حصّہ ہے۔ اگر اوورسیز اپنا پیسہ بنکوں کے ذریعے وطن میں نہ بھیجتے تویہ ملک کب کا دیوالیہ ہو چکا ہوتا۔ 2021کے آخر تک اوورسیز پاکستانیوں نے 33ارب ڈالر کا کثیر زرمبادلہ وطن بھجوا کر نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ سب عمران خان کی حکومت میں ممکن ہوا۔ جب عمران خان اقتدار میں آے تو پہلی دفعہ اوورسیز کو لگا کہ انہیں کسی نے (اون)کیا ہے عزت دی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی آواز پر سب نے لبیک کہا۔ اور دل کھول کر پیسہ ملک بھجوایا پی ٹی آئی حکومت نے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا۔ جو کہ موجودہ حکومت نے چھین لیا۔ آج باہر بیٹھے پاکستانی حکومت سے یہ پوچھتے ہیں کہ آپ کو ہمارا پیسہ تو اچھا لگتا ہے مگر ووٹ کا حق اچھا کیوں نہیں لگتا۔آپ ہمیں ملک سے تو نکال سکتے ہیں لیکن ملک کو ہمارے دلوں سے کبھی نہیں نکال سکتے ہم کبھی بھی اپنے اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے آج اوورسیز پاکستانیوں کے بنیادی مطالبات میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔
ووٹ ڈالنے کا حق دیا جائے جو کہ نادرا کے ہوتے ہوئے قطعی طور پر ممکن ہے۔ اور سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے۔اور قانون بھی پاس ہو چکا تھا۔

ایئرپورٹ پر نا جائز تنگ نہ کیا جائے اگر امپورٹڈ حکومت آسکتی ہے تو امپورٹڈ سامان کیوں نہیں۔

مختلف ملکوں میں وفات پا جانے والوں کی میت پی آئی اے سے مفت پاکستان منتقل کرنے کی سہولت موجود ہے مگر جن ملکوں میں پی آئی اے نہیں جاتی وہاں سے بھی حکومت پاکستان اپنی سفارت خانوں کے ذریعے میت کے اخراجات خود برداشت کرے تاکہ ملک کو کروڑوں ڈالر زرمبادلہ بھجوانے والے محنت کشوں کی دل جوئی کی جا سکے۔

انکی پراپرٹی پر قبضہ گروپوں اور لینڈ مافیا سے جان چھڑوائی جائے ۔

ان کے بچوں کو اچھے سکول،کالج اور یونیورسٹی میں سکالر شپ دی جائے۔

اسمبلی اور سینیٹ میں نمایندگی دی جائے۔

کاروبار میں ٹیکسوں پر چھوٹ دی جائے جیساکہ گزشتہ حکومت نے پلان کیا تھا۔(پی ڈی ایم) حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب سے آپ نے اوورسیز کے ووٹ کی مخالفت شروع کی ہے۔غیرممالک سے زرمبادلہ کی ترسیل میں کمی واقع ہوئی ہے۔آپ انہیں سیاسی حدف نہیں بنا سکتے یہ ملک کے مفاد میں قطعاً نہیں مگر کیا کریں موجودہ حکومت تو آئی ہی اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ہے ا ن کو ملکی مفاد پی ٹی آئی کامفاد نظر آتا ہے۔ خدارا عمران خان دشمنی سے باز رہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستانی شہری سمجھیں نہ کہ پی ٹی آئی ورکر۔

رضا حسن ہاشمی
rhhashmi@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں