Voice of Asia News

صدر دونوں بلوں کو آئین کے حوالے سے ملک میں ریفرنڈم کروانے کا اختیار استعمال کریں میا ں حنیف طاہر

لاہور ( میاں عارف )معروف قانون دان اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل میاں حنیف طاہر نے کہا ہے کہ موجودہ پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس سو فیصد غیر آئینی ، ،غیراور غیر سیاسی عمل ہے ، صدر پاکستان نے دونوں بلوں پر دستخط نہ کر کے غیر آئینی عمل کیا ہے مگر کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جس کو دیکھنا بہت ضروری ہے اگر صدر چاہے تو وہ ان دونوں بلوں پر عوامی ریفرنڈم کروا سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز وائس آف ایشیاءکو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ہوتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس دوسری جگہ پر منتقل کرنا غیر آئینی غیر قانونی اور غیر سیاسی عمل ہے اس عمل سے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کسی طور قابل برادشت نہیں ہے اسمبلی کا اجلاس گورنر ہی بلاتا ہے مگر سپیکر کی ریکوزیشن پر اجلاس بلایا جاتا ہے مگر یہاں ایسا کوئی عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے اسمبلی کے تقدس کو پامال کیا گیا اور ممبران پارلیمان کی توہین کی گئی نہ صرف یہ کہ 22کروڑ عوام کی بھی تذلیل کی گئی حالات جیسے بھی تھے اجلاس پنجاب اسمبلی میں ہی ہونا مقصود تھا میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا صدر پاکستان آئین کے مطابق قومی اسمبلی سے بھیجے گئے بل پر دستخط کرنے کے آئینی طور پر ذمہ دار تھے اگر انہوں نے دونوں بلوں پر دستخط نہیں کئے تو دونوں ایوانوں سے مزکورہ بلوں کو منظور کروا کے بغیر صدر کے لاگو کیا گیا ہے جو کہ آئین کا ایک حصہ ہے جہاں تک ان دونوں بلوں کا تعلق ہے یہ دونوں قوانین واضح طور پر بددیانتی ، بد نیتی پر مبنی ہے ذاتی طور پر ایک مخصوص ٹولے نے ذاتی مفادات کے لیے بنائے گئے بلوں کو منظور کروا کر لاگو کروایا جس سے ملک و قوم اور عوام الناس کا کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی ان دونوں قوانین سے کسی عوام الناس میں سے فائدہ ہو سکتا ہے پارلیمان کی قانونی ، آئینی اور پارلیمانی ذمہ داری ہے کہ صدر پاکستان کو دوبارہ بھیجے گئے بل پر دستخط کرنے کا پابند تو ہے مگر وہ غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر بد نیتی سے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے بنائے گئے بل پر غور و خوض کرنے کا بھی پابند ہے کیونکہ صدر پاکستان آئین کے تحفظ کا حلف لیے ہوئے ہے انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پوری پارلیمان یہ بل پاس کروائے کہ پاکستان آج سے ہندوستان کا حصہ ہو گا یا ایک صوبہ اس ملک کا حصہ نہیں ہو گا یا یہ کہہ دیں کہ پاکستان ایٹمی قوت کو ختم کر دے گا ایسے بل پاس کروانے کے لیے صدر کے پاس بھیجا جائے تو کیا صدر اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہ کرے ایسے بلوں پر دستخط کیوں کرے جس سے محض ایک ٹولے کو ہی فائدہ پہنچتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر پاکستان اس وقت دونوں بلوں کو آئین کے حوالے سے ملک میں ریفرنڈم کروانے کا اختیار استعمال کریں اور عوام کو یہ فیصلہ کرنے دیں کہ آیا یہ دونوں بل لاگو ہونے چاہئے کہ نہیں ہونے چاہئے اس سے عوام کی رائے سے سب کچھ عیاں ہو جائے گا کہ جرائم پیشہ ٹولہ کدھر کھڑا ہے اور آئین کے رکھوالے کس طرف کھڑے ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مہنگائی کا سیلاب جو آ چکا ہے اس کی روک تھام کے لیے عوام کو خود باہر نکلنا ہو گا اور اپنے علاقے کے جاگیر داروں اور تاجروں کا محاصرہ کرنا ہو گا کیونکہ سول بیوروکریسی حکومت کے تابع ہوتی ہے اور جو موجودہ حکومت نے احکامات جاری کرنا ہوتے ہیں اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت بہت بڑی رقم دے کر وجود میں آئی ہے یہ ساری رقم تاجروں ، ذخیرہ اندوزوں ، سرمایہ داروں اور جاگیر داروں سے لی گئی اب سود سمیت پیسے واپس کرنے کے لیے حکومت اپنے ان سے کئے گئے وعدے پورے کر رہی ہے اور مہنگائی کر کے تمام سول بیوروکریسی کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں کہ کسی ذخیرہ اندوز ، سرمایہ دار ، تاجر کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں