Voice of Asia News

اَپ ڈیٹ:میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنی مرضی کا آرمی چیف لاؤں گا، عمران خان

اسلام آباد(وائس آف ایشیاء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو خوف تھا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل فیض کو آرمی چیف لانا چاہتا ہوں۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کہا کہ پیپلزپارٹی کے خرم دستگیر نے بیان دیا کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لانا چاہتا تھا، تحریک انصاف نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ملک کا اگلا آرمی کون ہوگا، ہماری حکومت طے کر چکی تھی کہ وقت آنے پر میرٹ پر فیصلہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چوری کے پیسے بچانے کیلئے آرمی چیف اپنی پسند کا لانا چاہتا تھا، میں نے ہمیشہ کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے مفادات ایک ہیں۔ ماضی میں الیکشن جیتنے کیلئے دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے لیکن میرے خلاف دونوں ایک ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں جماعتوں کو فوج سے خطرہ ہے کیونکہ انکی چوری کی رپورٹ آئی ایس آئی اور دیگر حساس اداروں کے پاس ہوتی ہے۔ نواز شریف اور زرداری کے پاس چوری کا پیسہ ہے، وہ اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام، کورونا جیسی عالمگیر وباء کے دوران دیوالیہ پن کے کنارے کھڑی معیشت کو بچایا لیکن موجودہ امپورٹڈ حکومت ملکی معیشت کو سنبھالنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

 

 

 

پاکستان: بڑا معاشی مسئلہ ہے ہمیں وہ بہتر کرنا ہوگا ، عمران خان کا غیر ملکی میڈیاکو انٹرویو

 

اسلام آباد (وائس آ ف ایشیاء) سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہناہے کہ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا معاشی مسئلہ ہے ہمیں وہ بہتر کرنا ہوگا،ہمیں معاشی طور پر روس کی ضرورت تھی،ہمیں روس سے گیس،آئل اور گندم چاہیے تھی،روس سے ہمیں تیل 30 فیصد رعایت پر مل رہا تھا،ہمارے خلاف سازش ہوئی،عمران خان نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ22 کروڑ عوام کیلئے شرمندگی ہےکہ منتخب وزیراعظم کو سازش سے ہٹایا گیا،جب بھی پاکستان میں حکومت ہٹائی گئی اس کی وجہ کرپشن تھی، پہلی بار حکومت کو ہٹایا گیا جب کسی کیخلاف کرپشن کے کیسز نہیں تھے،جب سے ہمیں ہٹایا گیا ملکی معیشت نیچھے گئی ،ہم اداروں کو مضبوط کرنے کے عمل میں ہیں، انکا کہناتھاکہ روس کا دورہ پہلے سے طے تھا،تمام اسٹیک ہولڈرز چاہتے تھے کہ روس کےساتھ تعلقات بہتر ہوں،گزشتہ روز عمران خان نے وفاقی حکومت پر خود کو این آر او دینا کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے سے کی گئیں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے،جس قوم کے اندر کرپشن ہو وہ ترقی نہیں کرسکتی، فیک اکاؤنٹس میں اومنی کے حوالے سے آصف زرداری اور شہباز شریف کی 8 ارب کی باہر سے ٹی ٹیز آئیں، اب یہ سارے بچیں گے، جس کے لیے سیکشن 14 میں ترمیم کی ہے،ملک کا مذاق اڑایا گیا ہے، جن لوگوں نے بے شرمی سے نیب کی ترامیم منظور کی ہیں، ان کو بے شرمی کی وجہ سے جیل میں ڈالنا چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت نے نیب کے حوالے سے جو ترامیم کی ہیں، اس کو ہم نے اسی ہفتے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس قوم کے اندر کرپشن ہو وہ ترقی نہیں کرسکتی، جس قوم کے اندر انصاف نہ ہو یعنی قانون کی حکمرانی نہ ہو تو کرپشن اس کی نشانی ہے۔انہوں نے کہاکہ جس ملک میں ایک طبقہ قانون سے اوپر ہو اور قانون صرف کمزوروں کیلئے ہو تو وہ ملک تباہ ہوجاتے ہیں، بنانا ریاست بنتے ہیں اور ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر کوئی قوم امیر ہے تو اس لیے نہیں ہے وہاں وسائل زیادہ ہیں اور اگر کسی قوم میں غربت زیادہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے وہاں وسائل کی کمی ہے بلکہ کمی ایک چیز کی ہے انصاف کی، جس ملک میں انصاف کی کمی ہے وہ ملک کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا ہے

 

سی ٹی ڈی نے عمران خان کے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق تھریٹ الرٹ جاری کردیا۔

لاہور(وائس آف ایشیاء)ذرائع کے مطابق پشاور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے عمران خان کے قتل سے متعلق تھریٹ الرٹ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہےکہ دہشتگردوں نے افغانستان کے ایک قاتل کی خدمات حاصل کی ہیں جو ممکنہ طور پر حملہ کرسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا نے تھریٹ الرٹ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دہشتگرد، سابق وزیر اعظم عمران خان کے قتل کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشتگردوں نے افغانستان کے ایک قاتل کی خدمات حاصل کی ہیں جو ممکنہ طور پر حملہ کرسکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کے رہنما ان خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو قتل کرنے کے لیے ایک ٹارگٹ کلر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ تھریٹ الرٹ کے متن کا اشتراک مختلف فورمز پر کیا گیا ہے جس کے مطابق افغانستان کے ایک قاتل کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ عمران خان کو ٹارگٹ کرے جب کہ قاتل نے یہ ذمہ داری دوسروں کے سپرد کی تھی، تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ تھریٹ الرٹ کے تناظر میں سابق وزیر اعظم کی سکیورٹی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
خیبر پختونخوا کے ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ سی ٹی ڈی نے تھریٹ الرٹ 18 جون کو جاری کیا تھا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں