Voice of Asia News

سعودی عرب،مصر کا ایران کو جوہری پروگرام سے روکنے پر اتفاق

ریاض(وائس آ ف ایشیاء) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کومضبوط بنانے اورایران، یمن، عراق، لیبیا، سوڈان، لبنان، شام اور فلسطین سمیت علاقائی امور پران کے متحدہ موقف کا اعادہ کیا گیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق دونوں رہنمائوں نے ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے ورمشرقِ اوسط کو جوہری ہتھیاروں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت پراتفاق کیا۔انھوں نے ایران پربھی زوردیا کہ وہ عرب ممالک کے امور میں مداخلت بند کرے، مسلح ملیشیاں کی حمایت اور بحری جہازرانی اور بین الاقوامی تجارتی گذرگاہوں کو خطرے میں ڈالنے جیسی اپنی تخریبی سرگرمیوں کو روکے۔ یمن کے بارے میں دونوں رہنمائوں نے بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا جن کا مقصد بحران کے جامع سیاسی حل تک پہنچنا ہے۔انھوں نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب میں شہری علاقوں اوراہم تنصیبات پرحملوں، بین الاقوامی سمندری گذرگاہوں کی سلامتی اور تحفظ کواس سے لاحق خطرے اور یمن میں بحران کے خاتمے کے سیاسی حل کی کوششوں کے پیش نظراس کی ہٹ دھرمی کی مذمت پر بھی زوردیا ۔ دونوں رہنمائوں نے اس خواہش کا اظہارکیا کہ عراق کی سیاسی جماعتوں کوایک جامع حکومت تشکیل دینی چاہیے جو عراقی عوام کی سلامتی، استحکام، ترقی کو یقینی بنائے اور دہشت گرد تنظیموں کامقابلہ کرے اور عراق کے اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ تعلقات کو وسعت دے۔دونوں رہنمائوں نے لبنان کی سلامتی اور استحکام کی اہمیت پرزوردیتے ہوئے اس کے ریاستی اداروں کے کردار کی حمایت کی اوراس بات کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پرزوردیا اوراس خواہش کا اظہار کیا کہ لبنان اپنے بحران پر قابو پالے اورکسی دہشت گردانہ کارروائی کا مرکز نہ ہو یا خطے کی سلامتی کوغیرمستحکم کرنے والی تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کی تربیت گاہ ثابت نہ ہو اور نہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کا ذریعہ یا راہداری نکتہ نہ بنے۔ انھوں نے شامی عوام کی خواہشات کے مطابق شام میں جاری بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ شام کی یک جہتی اور علاقائی سالمیت برقرار رہے۔مشترکہ اعلامیے میں فلسطین،اسرائیل تنازع کے جامع اور منصفانہ تصفیے تک پہنچنے کی کوششوں کوتیز کرنے اور دو ریاستی حل کے اصول اور متعلقہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق امن کے حصول کے لیے سنجیدہ اور مثرمذاکرات کی طرف لوٹنے پرزوردیا گیا ہے۔ انھوں نے تنازع کے ایک ایسے حل کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی جو فلسطینی عوام کو1967 کی سرحدوں میں اپنی آزاد ریاست کے قیام کے حق کی ضمانت دے اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔انھوں نے سوڈان میں عبوری مرحلے کی کامیابی کے ساتھ ساتھ تمام جماعتوں کے درمیان بات چیت کی اہمیت کی مسلسل حمایت کا اقرارکیا جس سے سیاسی اور معاشی فوائد کے تحفظ میں مدد ملے اور سوڈانی عوام کے تمام عناصر کے درمیان اتحاد حاصل ہو۔ انھوں نے لیبیا کے علاقائی اتحاد اور سالمیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پرزوردیا اوراس کے باشندوں کی کسی بیرونی مداخلت کے بغیرکسی حل تک پہنچنے کی اہمیت پر زور دیا جس کے نتیجے میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات بیک وقت منعقد ہوں گے۔انھوں نے لیبیا سے تمام غیر ملکی افواج اور کرائے کے فوجیوں کے فوری انخلاکی اہمیت پر بھی زور دیا۔سعودی ولی عہد اور مصری صدر نے اپنے ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کااعادہ کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کی سطح بڑھانے پراتفاق کیا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں