Voice of Asia News

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے پر اعتزاز احسن کی رائے

اسلام آباد (وائس آ ف ایشیاء) ملک کے سینئر قانون دان اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزازاحسن نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کرنے پر کہا ہے کہ اگر یہ تصدیق ہوتی ہے کہ کسی نے 50 پاؤنڈ کسی بھی سیاسی پارٹی کے اکاؤنٹ میں ڈال دیئے ہیں تو اس سے پارٹی تو ختم نہیں ہوسکتی ۔   کیس کا فیصلہ تحریک انصاف کے مستقبل پر اثر ڈالے گا؟ اس کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں ماضی کے علاوہ کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی یہ چوں کہ ایک کرمنل چارج ہے لہذا کرمنل چارج کو پوری طرح ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تصدیق ہوتی ہے کہ کسی نے 50 پاؤنڈ کسی بھی سیاسی پارٹی کے اکاؤنٹ میں ڈال دیئے ہیں تو اس سے پارٹی تو ختم نہیں ہوسکتی ، الیکشن کمیشن کے سامنے جو سماعت ہوئی ہے اس میں کتنی بحث ہوئی ہے اور کتنا الیکشن کمیشن کو کیس کی اہمیت سے متعلق ادراک ہے یا نہیں اور یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اس کیس میں سیاسی جماعت کتنی ذمہ دار ہے۔ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ، اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی جس میں درخواست گزار اکبر ایس بابر کے فنانشل ایکسپرٹ نے دورانِ سماعت بتایا کہ پی ٹی آئی فنڈز میں آڈٹ کے اصول اور معیارکو نظر انداز کیا گیا ہے ، ڈونرز تھرڈ پارٹی نہیں ، پی ٹی آئی قیادت کی اپنی بنائی ہوئی کمپنیاں ہیں۔ اس دوران اکبر ایس بابر نے کہا کہ پہلی بارکوئی سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں فنڈنگ کی تفصیلات دے رہی ہے، ہر سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ تمام فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، پاکستان تحریک انصاف کا کیس فائنل ہوا ہے ، چاہتے ہیں دوسری سیاسی جماعتوں کے کیسزکا بھی اختتام ہو ، یقینی بنائیں گے کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو اور ووٹر کا اعتماد بحال ہو ، ملک کو جمہوری طور پر مضبوط کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں