Voice of Asia News

آئی ایم ایف معاہدہ ‘ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 40 فیصد تک ہوجائے گی ؛ شوکت ترین

اسلام آباد(وائس آ ف ایشیاء) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح جو اس وقت 28 فیصد ہے بڑھ کر 35 سے 40 فیصد ہوجائے گی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام اباد مین پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے مہنگائی کم کرنے کا بہترین فارمولا رکھا تھا ، روس سے سستا تیل لینے کے بعد ٹارگٹڈ سبسڈی کا ارادہ تھا ، حکومت روس کے ساتھ بات کرتی اور سستا تیل لیتی لیکن انہوں نے تاخیر کی ، موجودہ حکومت نے 6 ہفتے تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ، ملک میں عدم استحکام معاشی بحران پیدا کرتا ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے جاتی ہے ، حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ، آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت سے کہا بجٹ آنے تک پیسے نہیں دیں گے ، آئی ایم ایف سےمعاہدے کے 450 بلین کہاں سے اکھٹا کریں گے ، یکم جولائی سے گیس اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی ، مہنگائی کی شرح 28 فیصد ہے جو بڑھ کر 35 سے 40 فیصد ہوجائے گی ، ہم بہت سیریس معاشی کرائسسز کی طرف جا رہے ہیں۔ ادھر عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) اورپاکستان کے درمیان مذاکرات کی نئی شرائط منظر عام پر آگئیں ، آئی ایم ایف کی نئی شرائط کے تحت پیٹرولیم مصنوعات پر ہر ماہ 5 روپے فی لٹر لیوی عائد کی جائے گی جب کہ پیٹرولیم مصنوعات پر مرحلہ وار مجموعی طور پر 50 روپے فی لٹر لیوی عائد کرنے پر اتفاق ہوا ہے ، اسی طرح نئے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کاہدف 7445 ارب تک لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، کسٹمز وصولی کا ہدف 950 ارب سے بڑھا کر 1005 ارب کیا جائے گا، جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں وصولیوں کا ہدف 3008 سے بڑھا کر 3300 ارب ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ نئے سال میں انکم ٹیکس کاہدف 55 ارب روپے بڑھایا جائے گا ، 6 سے 12 لاکھ سالانہ آمدنی پر 2.5 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا ، سالانہ 20 کروڑ آمدن پر 2 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا ، سالانہ 25 کروڑ آمدن پر 3 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جب کہ سالانہ 30 کروڑکی آمدن پر 4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں