Voice of Asia News

ہندوستان سے تعلقات اور اسرائیل تسلیم کرنے کیلیے ماحول بنایا جارہا ہے‘ فواد چوہدری’

اسلام آباد(وائس آف ایشیاء) پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہندوستان سے تعلقات بحال اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے ملک میں ماحول بنایا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسلام آباد میں ‘ رجیم تبدیلی کی مبینہ سازش’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رجیم چینج میں واضح تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے، ہماری اپوزیشن پارٹیز کو بیٹ دی گئی، پہلے 10 ایم این ایز کو ٹارگٹ کیا گیا،اسکے بعد 6 مزید ایم این ایز سے رابطہ کیا گیا، ہمارے 22 ایم این ایز سمیت اتحادی بھی شامل کیے گئے، اپوزیشن سے کہا گیا تھا کہ رجیم چینج کرکے آپکے کیسز معاف کردینگے اور کل نیب قانون پر عملدرآمد کرکے این آر او ٹو دے دیا گیا ہے۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی سماعت میں وقفے سے پہلے چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول اور شہباز شریف کو بلائیں، سیاسی جماعتیں الیکشن سے کیسے بھاگ سکتی ہیں، ہم نے جاکر وزیراعظم کو مبارکباد دی کہ عدلتی آبزرویشن مثبت ہیں لیکن وقفے کے بعد ٹی وی پر اچانک چیف الیکشن کمشنر کا بیان آتا ہے کہ الیکشن کیلئے تیار نہیں اور ہم الیکشن کی طرف جاتے جاتے دوسری طرف چلے گئے جب کہ آئین کہتا ہے جب بھی الیکشن ہونگے الیکشن کمیشن 90 دن میں کرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالتی وقفے میں اور بھی بہت کچھ ہوا مگر وہ نہیں بتا سکتا، سپریم کورٹ کادروازہ کھولا تو پتا چلا چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری پہلے ہی لاک شدہ کمرے میں موجود تھے، کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا، رجیم چینج کے مرحلے پر سب سے پہلا ردعمل عوام کا آیا، جب عمران خان نے کال دی اور 36 گھنٹے کا نوٹس دیا تو پورا پاکستان نکلا اور عوام نے بتادیا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں، کسی عام آدمی نے نہیں بلکہ صدر اور اس وقت کے وزیراعظم نے سپریم کورٹ سے کہا کمیشن بنائیں مگر نہیں بن رہا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سوال ہے کہ رجیم چینج آپریشن مکمل ہوگیا جواب ہے نہیں ہوا، سری لنکا میں پہلے معاشی پھر سیاسی بحران پیدا ہوا جب کہ پاکستان میں پہلے سیاسی پھر معاشی بحران پیدا کیا گیا، پاکستان کے ہندوستان سے تعلقات بحال، امریکا کو افغانستان کیلیے اڈوں کی بحالی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے ملک میں ماحول بنایا جارہا ہے اور اس کے لیے یہ بیانیہ تشکیل دیا جارہا ہے کہ اگر ہم یہ نہیں کرتے تو معاشی مشکلات مزید بڑھیں گی۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آپریشن رجیم چینج کی دو بڑی رکاوٹیں ہیں، دوسرا یہ کہ بڑے لیول پر رجیم چینج کی توقع نہیں ہورہی، حمزہ شہباز کو جان بوجھ کر اس طرح سے وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا ہے اور اداروں نے زور لگا کر حمزہ شہباز کو رکھا ہوا ہے، وہ ایسے پھٹے پر ہیں جو کسی وقت بھی سرک سکتا ہے، یہ عوام سے ڈر رہے ہیں آخری چند ہفتے ہیں پھر عوام بتائے گی، ان مسائل کا واحد حل ہے کہ ہم عوام کی طرف جائیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں