Voice of Asia News

ملکی حالات کی بہتری ہمیں خوابوں سے نکل کر اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور(وائس آف ایشیاء) وطن عزیز میں جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے حصے کا کام نہیں کر تے اور خواب دیکھتے رہتے ہیں۔بندہ مومن کا یہ مقام نہیں کہ وہ خوابوں میں جی رہا ہو اس دنیا میں وقت مقررہ تک رہنا ہے یہ حقیقت ہے۔اللہ کریم نے دین حق عطا فرمایا یہ بھی حقیقت ہے ہم حقیقت کو چھوڑ کر خوابوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔انبیاء ؑ بھی اپنی اولاد کو یہی نصیحت فرماتے رہے کہ ایمان پر قائم رہنا اور اور حق کی سربلندی کے لیے کوشاں رہنا کیونکہ نتائج عمل پر مرتب ہوتے ہیں۔جس حال میں ہم ہیں اُسے دیکھنے کی ضرورت ہے جو غلطی ہو چکی آئندہ نہ ہو۔بحیثیت مسلمان جب مانا کہ وہ وحدہ لاشریک ہے پھر مخلوق سے اپنی توقعات وابستہ کر لینا کہ مجھے فلاں بندہ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔ دین اسلام تواتر سے ہم تک پہنچا تو ہمیں اس پر ایمان لانا چاہیے اور اس کے احکامات پر من و عن عمل پیرا ہونا چاہیے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پرل خطاب
انہوں نے کہا کہ ایسے خوش بخت بھی اس دنیا سے گزرے ہیں جن کی شہادت اللہ کریم قرآن مجید میں دے رہے ہیں۔اللہ کریم کا احسان کہ نبی کریم ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ قرآن مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جس میں ہر سوال کا جواب ہے۔نبی کریم ﷺ کا زمانہ تمام زمانوں میں افضل ترین ہے۔آج ہم اپنے اجداد کی وصیت بھول چکے ہیں جو جہاں جیسا عمل کرے گا اس کا حساب کتاب بھی اسی کے ذمہ ہے۔وقت گزر رہا ہے اور ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے یا ہم ماضی پر بات کر رہے ہوتے ہیں یا پھر آنے والے وقت کو پلان کر رہے ہوتے ہیں۔جہاں ہیں جس حال میں ہیں اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں