Breaking News
Voice of Asia News

ٹی ٹی پی سے مذاکرات ضروری بے خبرا وزیر خزانہ

وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری اور سیا سی قیادت نے ٹی ٹی پی سے مذاکراتکرنے پر اتفاق کیا ہے جو بڑی خوش آئند اقدام ہے اجلاس میں ٹی ٹی پی سے بات چیت کے معاملے کو پارلیمنٹ میں اعتماد کے لئے لایا جائے گا اور ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے گا اور اس بات پر بھی متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا معاملہ آگے بڑھنا چاہیے اس لئے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کچھ امن رہا اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوئی لیکن طالبان حکومت کے آنے کے بعد مسلح گروپ نے بھارت کے ایما پر ایکا دکا کاروائیاں شروع کر دیں حا لانکہ طالبان حکومت اس میں سہولت کا تھی کہ ہماری حکومت آنے کے بعد افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور اس پر ٹی ٹی پی اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ بھی موجود ہے جس پر عمل بھی ہوتا رہا ہے مگر اب صورت حال پہلے جیسی نہیں رہی اور ٹی ٹی پی نے مختصر مدت کے بعد دوبارہ کاروائیاں شروع کر دی ہیں اس لئے ٹی ٹی پی سے مذاکرات ضروری ہیں حکومت صرف انہی سے مذاکرات چاہتی ہے تا کہ انہیں غیر مسلح کرکے قومی دھارے میں لایا جائے اس لئے کہ سابقہ جنگ کے نتیجے میں 80 ہزار قربانیاں دی ہیں اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان اربوں ڈالر الگ ہیں اور پاک فوج اور دیگر سیکورٹی ادارے آج بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف بر سرپیکار ہیں اور وطن عزیز کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں انہی قربانیوں سے ملک امن کا گہوارہ بنا ہے اب اس ملک کو دوبارہ دہشت گردی سے بچانا حکومت اور عسکری قیادت کی اہم ذمہ داری ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ دہشت گردی کے اے پی ایس اور ہمارے جوانوں اور عام شہریوں کی شہادتوں نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن ہماری بہادر فوج کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانا قابل ستائش ہے ادھر شادی بے خبرے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے پھر قوم کو طنز کی ہے کہ پیٹرول اور بجلی کی قمیتں بڑھنے کے باوجود عوام بہر نہیں نکلی اس سے قبل بھی وزیرخزانہ نے ہنتے ہوئے کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمتں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوتا شاید مفتاح اسماعیل لندن کے ایما پر عوام کو اشتعال دلا کر سڑکوں پر لا کر میاںشہباز شریف کی حکومت کو گھر بھیجنا چاہتے ہیں لیکن وزیرخزانہ آپ کو بتا دوں میاں شہباز شریف کی حکومت کو جو لائے ہیں وہی گھر بھیجیں گے اگر آپ کو اپنے بھائی سابق گورنر عمران اسماعیل کے جانے کا غم ہے تو اس میں میاں شہباز شریف حکومت کا کیا قصور جبکہ دوسری طرف وزیراعظم دکھی دل سے پیٹرول اور بجلی بڑھنے پر عوام کو حوصلہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا قارئین میں اس لئے وزیرخزانہ کو شادی بے خبرا کہتا ہوں کہ اسے کچھ علم نہیں کہ آئی ایم ایف سے بات چیت کے باوجود کچھ ملنے والا نہیں اور جو چین نے 2 ارب اور 30 کروڑ ڈالر دیئے ہیں وہ بدھ کے روز حکومتی اکاو ¿نٹس میں آ چکے ہیں اور قرض پر وزیراعظم پاکستان نے چین کا شکریہ بھی ادا کر دیا تھا اور یہ شادی بے خبرے وزیرخزانہ جمعہ کے عوام کو اطلاع دے رہے ہیں کہ چین کی طرف سے قرض پاکستانی اکاو ¿نٹس میں جمع ہو گئی ہے اگر تو مفتاح اسماعیل کو لندن سے مسلط کیا گیا ہے تو اس کی بونگیاں برداشت کریں اس لئے کہ لندن میں ہی سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو بھی میاں شہباز شریف کی حکومت کو معیشت بہتر کرنے کے بارے میں مشورے دینے پر میاں نواز شریف نے شیٹ کال دی ہے کہ آپ میاں شہباز شریف حکومت کو بچانے کے لئے مشورے دینے بند کرو جو یہ کرتا ہے اسے کرنے دو ہم نے اسے عمران خان کے جانے کے بعد حکومت لینے سے روکا تھا ہم تو جلد از جلد الیکشن چاہتے ہیں اسی لئے مفتاح اسماعیل کا عوام کا طنز کرنا سمجھ آیا ہے حالانکہ عوام جانتی ہے کہ تمام وفاقی وزراءمیاں شہباز شریف کی چوائش نہیں اگر وزیراعظم کی چوائش نہیں تو خدارا اسے بدل دیں اور اس جگہ سابق صوبائی وزیرخزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کو آئی ایم ایف سے مذاکرات کی ذمہ داری دی جائے جو سنجیدگی سے ملک کی معیشت بہتر کرسکیں ویسے بھی وزیراعظم اور دیگر سیاسی قیادت کو آئی ایم ایف کے رویے پر غور کرنا ہوگا کہ جس نے برملا یہ کہہ دیا ہے کہ موجودہ پہلے عمران خان حکومت کے معاہدے کی شرائط پوری کرے اور قرض میاں شہباز شریف کو 14 ماہ بعد ملے گا اس لئے کہ شہباز شریف حکومت کا کوئی سٹیک نہیں آئی ایم ایف کی شرائط سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور پھر آئی ایم ایف کا قرض کو سٹیٹ بنک سے مشروط کرنا پاکستان اور قوم کی توہین ہے شاید اسی لئے آئی ایم ایف نے عمران خان حکومت کے دور میں سٹیٹ بنک کو خود مختاری دلا ئی تھی جس کا خمیازہ آج ملک و قوم بھگت رہے ہیں حالانکہ آئی ایم ایف نے یہ قرض میاں شہباز شریف حکومت کو نہیں بلکہ ملک پاکستان کو دینا تھا ماضی میں بھی قرض دینے والے حکومت کو نہیں ملک کے نام پر قرض دیتے رہے ہیں بہتری اسی میں ہے کہ میاں شہبا ز حکومت آئی ایم ایفکی بجائے چین اور سعودی عرب سمیت دگر دوسے ممالک سے رابطہ کرکے اس بحران سے نکلیں اس لئے کہ عمران خان کی لگائی آگ سے ملک بحرانوں میں ہے مفتاح اسماعیل جھوٹ بول رہے ہیں کہ جلد قرض مل جائے گا آئی ایم ایف میں شہباز حکومت کو کبھی قرض نہیں دے گا پھر مہنگائی کے باوجود عوام کا عمران خان کی سڑکوں پر آنے کی کال کو مسترد کرنا میاں شہباز شریف کی حکومت ہر اعتماد ہے لیکن جہاں عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے وفاق اور پنجاب حکومت کو ریلیف دینا چاہیے ادھر سابق وفاقی وزیرشیخ رشید احمد اور گیٹ نمبر 4 کی پیداوار کی طرف سے یہ بیان نے عوام کو چونکا ہے کہ جب چور اور چوکیدار مل جاہیں تو عوام آسمان کی طرف دیکھتے ہیں یوں دکھائی دیتا ہے کہ شیخ رشید احمد بھی عمران خان کے بعد ”اپنوں“سے فارغ ہو گئے ہیں جو محسنوں پر تنقید کرنے لگے ہیں جناب شیخ صاحب اب آپ اور عمران خان کی لمبی چھٹی ہے آپ جتنے مرضی اداروں پر حملے کریں اس لئے کہ آپ خود ہی کہا کرتے تھے کہ شہباز شریف وکٹ کے دونوں طرف کھیلتا ہے اور ”اپنوں“کی گڈ بک میں ہے اسی لئے تو شیخ صاحب میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو آزما رہے ہیں اور پنجاب میں بجٹ کے دوران سپیکر چوہدری پرویز الہی کے پی ٹی آئی سے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی بدمزگی کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں جانے کی بجائے ایوان اقبال اجلاس منقد کرکے پنجاب کی عوام اور سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کے لئے بجٹ پاس کروا کر بڑی ذہانت ،بردباری،سیاسی بصیرت اور دانش مندی کا ثبوت دیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ”اپنوں“ کی چوائس اور فیصلہ درست ہے اور میاں شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں کا حکومت میں آنے کا فیصلہ ملکی مفاد میں گو اس ایشو پر ابھی تک (ن) لیگ میں اختلاف ہے لیکن اگر میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری ایسا نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا اس لئے کہ نگران حکومت کے بس کی بات نہیں تھی کہ اسے کوئی معیشت کو سہارا دینے کے لئے قرض دیتا اب یہی حکومت ملک کو بحران سے بھی نکالے گی اور معیشت بھی بہتر کرے گی ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں