Breaking News
Voice of Asia News

گجرات قتل عام کے متاثرین کی آوازبلند کرنے والی کارکن کی گرفتاری کیخلاف دہلی میں احتجاجی مظاہرہ

نئی دہلی (وائس آ ف ایشیاء) گجرات پولیس کے انسداد دہشت گردی سکواڈ کی طرف سے انسانی حقوق کی ممتاز کارکن تیستا سیٹالواڈ کی گرفتاری کے خلاف طلبا، اساتذہ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کیا ،مظاہرین نے تیستا سیٹالواڈ کی گرفتاری کو حقوق انسانی کے کارکنوں کو خاموش کرانے کی ایک منصوبہ بند سازش قرار دیا۔ تیستا سیٹالواڈسیٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس کی سیکرٹری ہونے کے علاوہ بھارتی شہری حقوق کی کارکن اور صحافی بھی ہیں۔ سیٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس 2002کے گجرات میں مسلم کشُ فسادات کے متاثرین کے حق میں آوازبلند کرنے کیلئے تشکیل دی گئی تھی ۔ یہ فسادات گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی نگرانی میں کرائے گئے تھے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں ہونے والے اس احتجاج میں کانگریس کے سینئر رہنما جیرام رمیش اور اجے ماکن بھی شریک تھے۔جنتر منتر میں تقریبا 300 مظاہرین نے جمع ہوکر نعرے لگائے اور سیتلواڈ اور سابق آئی پی ایس افسران آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ کی رہائی کا مطالبہ کیا، ان پر 2002میں گجرات میں ”مجرمانہ سازش، جعلسازی اور عدالت میں جھوٹے ثبوت پیش کرنے”کا جھوٹا الزام ہے۔ کانگریس لیڈر ماکن نے کہا کہ ان کی پارٹی گرفتار شدگان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے میڈیا کو بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک منصوبہ بند سازش ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ سپریم کورٹ 25 جون کو فیصلہ سنائے اور اسی ہی دن مقدمہ بھی درج کیا جائے ۔ انہوں نے گرفتاری مودی حکومت کی طرف سے ملک کے دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں کو خاموش کرانے اور ڈرانے اوردھماکانے کی سازش قرار دیاہے۔ شبنم ہاشمی نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مودی حکومت گرفتاریوں کے ذریعے ان تمام کارکنوں کو پیغام دے رہے ہیں جو مودی حکومت کے مظالم کے خلاف آواز ابلندکررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تینوں کارکنوں کو رہا کیا جائے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں