افغانستان سے سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ، پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان چیک پوسٹ تباہ
یہ جھڑپیں سرحدی علاقے کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں جہاں فائرنگ کا سلسلہ تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہا؛ سکیورٹی ذرائع
اسلام آباد (وائس آف ایشیا)افغانستان سے سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس پر پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان چیک پوسٹ تباہ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے طورخم اورتیراہ میں پاک افغان سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جارحیت کا فوری اور مثر جواب دیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں سرحدی علاقے کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں جہاں فائرنگ کا سلسلہ تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہا، اس دوران پاکستانی فوج کے تمام جوان محفوظ رہے جب کہ جوابی کارروائی کے دوران افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔اس حوالے سے وزیراعظم شہبازشریف کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا، پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کو جاری رکھے گا۔یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان نے افغانستان کے اندر قریبا 7 اہداف کو نشانہ بنایا جن میں پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولتکاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں، سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، مذکورہ کارروائی میں ایک غیر ملکی خوارج کمانڈر اختر کو اس دہشت گرد کیمپ میں ہلاک کر دیا گیا جہاں وہ روپوش تھا۔اس حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملوں سمیت آج ماہِ رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والے واقعے کے ناقابلِ تردید شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ دہشتگرد کارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کے ایما پر سرگرم خوارج عناصر نے انجام دیں، ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان کے گروہ فتنہ الخوارج اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ داعش خراسان نے بھی قبول کی۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے بارہا افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کے لیے قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم اس ضمن میں کوئی مثر اور ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر حال میں اولین ترجیح ہے اسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاک افغان سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر محدود اور ہدف پر مبنی کارروائی کی۔وزارت اطلاعات نے بتایا کہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک عناصر اور داعش خراسان کے 7 دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، کارروائی مکمل پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ انجام دی گئی تاکہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے، افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، دوحہ معاہدے کے تحت افغان حکام پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہے، پاکستان کی عالمی برادری سے بھی اپیل ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور افغان حکام کو اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کرے۔