اسلام آباد (وائس آف ایشیا) پاکستان میں جدید ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کے آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی 10 مارچ کو منعقد کی جائے گی جس کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی ای) نے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں، اس نیلامی کے ذریعے پاکستان میں انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل خدمات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور یہ پیش رفت ملک کے ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی، فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کے لیے مجموعی طور پر 597.2 میگا ہرٹز اسپیکٹرم مختلف فریکوئنسی بینڈز میں پیش کیا جائے گا جن میں 700 میگا ہرٹز، 1800 میگا ہرٹز، 2100 میگا ہرٹز، 2300 میگا ہرٹز، 2600 میگا ہرٹز اور 3500 میگا ہرٹز کے اہم بینڈ شامل ہیں جو جدید فائیو جی اور ہائی اسپیڈ موبائل براڈ بینڈ سروسز کیلئے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، ٹیلی کمیونی کیشن ماہرین کے مطابق ان بینڈز کی دستیابی کے بعد موبائل آپریٹرز نہ صرف فائیو جی سروس متعارف کرا سکیں گے بلکہ موجودہ فور جی نیٹ ورک کو بھی مزید بہتر اور مستحکم بنا سکیں گے، پی ٹی اے کے مطابق اس نیلامی میں ملک کی بڑی موبائل ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں شرکت کریں گی جن میں جاز، یوفون اور زونگ شامل ہیں جبکہ یہ کمپنیاں پہلے ہی فائیو جی ٹیکنالوجی کے ابتدائی ٹرائلز اور نیٹ ورک اپ گریڈیشن کے حوالے سے مختلف اقدامات کر چکی ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نیلامی کے بعد بڑے شہروں میں مرحلہ وار فائیو جی سروس کا آغاز کیا جائے گا۔

فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ سے انٹرنیٹ کی رفتار موجودہ فور جی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جائے گی اور صارفین کو ہائی ڈیفینیشن ویڈیو اسٹریمنگ، آن لائن گیمنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ڈیجیٹل خدمات تک انتہائی تیز رفتار رسائی حاصل ہو سکے گی، ماہرین کے مطابق فائیو جی نیٹ ورک کے ذریعے اسمارٹ سٹیز، خودکار ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، انٹرنیٹ آف تھنگز، مصنوعی ذہانت اور جدید صنعتی آٹومیشن کے شعبوں میں نمایاں ترقی ممکن ہو سکے گی جس سے ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور صنعتی جدت کو نئی رفتار ملے گی۔

فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے حکومت کو نمایاں مالی آمدن حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ اس کے ساتھ ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں اربوں روپے کی نئی سرمایہ کاری کے امکانات بھی روشن ہوں گے، اقتصادی ماہرین کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو نئی سمت ملے گی اور آئی ٹی، ای کامرس، فِن ٹیک اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبوں میں غیر معمولی ترقی ممکن ہو سکے گی، ماہرین کا کہنا ہیکہ فائیو جی کے آغاز کے بعد انٹرنیٹ کے استعمال میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا جبکہ ڈیجیٹل خدمات کی طلب بھی تیزی سے بڑھے گی، ٹیلی کمیونی کیشن ماہرین کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی کے ذریعے صنعتی ترقی، جدید مواصلاتی نظام اور ڈیجیٹل کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے ڈیجیٹل پاکستان کے وڑن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی جبکہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبے میں پاکستان کی عالمی مسابقتی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا، ماہرین کے مطابق اگر فائیو جی انفراسٹرکچر کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملکی معیشت کو ایک نئی رفتار مل سکتی ہے، 10 مارچ کو نیلامی کا عمل مکمل ہونے کے بعد کامیاب کمپنیوں کو فائیو جی نیٹ ورک کے قیام اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیب کے لیے مقررہ مدت دی جائے گی جس کے دوران وہ بڑے شہروں سے آغاز کرتے ہوئے مرحلہ وار پورے ملک میں فائیو جی سروس کو وسعت دیں گی جبکہ ٹیلی کمیونی کیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی نیٹ ورک کی بدولت نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی جدید ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی جس سے ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوں گے،