پاکستان کے بعض لوگوں کا ایمان بہت کچا ہے، ان کے خیال میں پاکستان امریکا کے قبضے میں ہے، میں نہ نقالی کرتا ہوں اور نہ ہی تاریخی چٹکلے لکھنے کا عادی ہوں، میں اپنی زندگی کے کچھ تجربات لکھا کرتا ہوں جو بحمداللہ پورے ہو جاتے ہیں، اللہ اکبر اللہ اللہ، وہ شب پھر یاد آئی اور آنکھوں میں نمی سی اگنے لگی ہے، جب ایک پردیسی سے ملاقات ہوئی جو سچ مچ اللہ کی جماعت کا سچا کارکن تھا، کہنے لگا پاکستان میں سو پکے ملازم ہمیشہ سی آئی اے امریکا کے پکے ملازم ہوتے ہیں، جن میں صدر، وزیراعظم بھی شامل ہوتے ہیں، اس نے آس پاس دیکھے بغیر بہت اعتماد سے کہا “”” شیر باز مزاری تو ہے ہی سی آئی اے کا “”” رات گزری صبح ہوئی، اخبار واحد ذریعہ تھا اطلاعات کا، اخبار کی ہیڈ لائن تھی، “”” قومی اسمبلی توڑ دی گئی، نوازشریف وزارت عظمی سے فارغ، بلخ شیر مزاری پاکستان کے عبوری وزیر اعظم مقرر کر دئے گئے “”” یعنی شیر باز کا سگا بھائی وزیر اعظم بن بیٹھا۔
اخبار کھولتے ہی مجھے رات کی حقیقت معلوم ہو گئی، اس دور میں پاکستان میں ایک شور برپا ہوتا تھا، فلاں امریکی ایجنٹ اور فلاں امریکی ایجنٹ، یہ پکی بات تھی کہ کوئی بھی حکومت بنانے اور ہٹانے میں سو فیصد کردار سی آئی اے کا ہوتا تھا، پھر ہوا یوں کہ جنرل ضیاء الحق شہید کی آئی ایس آئی نے آہستہ آہستہ پنجے گاڑھنے شروع کئے،
واہ رے واہ، وہ گھڑیاں کتنی خوب صورت اور خوشبو سے بھرپور ہوئی ہوں گی جب جنرلین شہیدین نے گریٹر پاکستان کا نقشہ بنایا ہوگا، جرنلین شہیدین سے مراد جنرل ضیاء شہید اور جنرل اختر عبدالرحمن شہید، ان دونوں نے شکاری سے شکار کی ساری چالیں سیکھیں اور پھر شکاری کو جال میں پھنسایا، پھر وہ دور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب ہندوستان میں طاعون پھیلا تو بھاجپا کا بھیڑیا ایل کے ایڈوانی چیخا آئی ایس آئی نے ہم پر طاعونی چوہے چھوڑ دئے، پوری دنیا میں آئی ایس آئی کے تذکرے شروع ہوئے، یہاں تک کہ وہ قوم جو ہر وقت امریکی سی آئی اے کی مالا جپتی تھی وہ بھی آئی ایس آئی کی مالا جپنے لگی، مگر غلام قوم کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ آزادی کا سفر شروع ہو چکا، کل جو فیصلے امریکا سے ہوتے تھے اب وہی فیصلے اپنے گھر سے ہوتے ہیں، غلام بیچارا پرائی حرام کی روٹیاں کھا کھا کر اتنا بے عقل ہو جاتا ہے کہ وہ آئی ایس آئی کے حوالے سے حقائق لکھنے والے کو بھی دلال سمجھتا ہے، اس لئے میں جانتا ہوں مجھے کیا کچھ کہا یا سمجھا جائے گا مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میرے نہ لکھنے سے بھی آئی ایس آئی پر بالکل کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ امریکا نے پاکستان اور افغانستان دو بھائیوں کو لڑا دیا، اب صلح کون کرائے گا؟
میری باتیں ان شاءاللہ پتھر پر لکیر ثابت ہوں گی، یہ جنگ اکیلے امریکا نے شروع نہیں کرائی بلکہ اس جنگ کے پیچھے امریکا سمیت را، ایم آئی سکس، موساد، خاد سب شامل ہیں،
سب کا ٹارگٹ پاکستان ہے، پاکستان اس لئے ہے کہ پاکستان میں ہزار ایٹم بموں سے زیادہ طاقتور قوت آئی ایس آئی ہے، جو دنیا بھر میں موجود ہے۔ سالہاسال سے افغانستان سے پاکستان پر حملے اسی وجہ سے ہوتے رہے کہ پاکستان جنگ میں کودے مگر پترو پاکستان اپنی پچ پہ لڑے گا، مارخور بند دروں میں نہیں پھنسے گا بلکہ شکار چل کر جال میں آئے گا، یہ جنگ پاکستان سمجھتا ہے کہ کس کے خلاف لڑنی ہے،
یاد رہے جرنلین شہیدین نے گریٹر پاکستان کا نقشہ ہی نہیں دیا تھا بلکہ مسلمانوں کو عزت سے جینے کا راستہ دکھایا تھا، پھر ایک سکوت ہوا، سکوت بہاولپور، وہ اتنا بڑا سکوت تھا کہ ہر مسلمان کو محسوس ہوا تھا، مجھے یوں محسوس ہوا تھا کہ میں فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا، میں نے خواب دیکھا، ایک طیارہ گرتا ہے اور پاکستان کے بڑے بڑے جرنیل شہید ہو جاتے ہیں، پھر چند ہی دنوں کے بعد وہ خواب سچا ثابت ہوا اور مسلمانوں کے جرنیل جام شہادت نوش کر گئے۔
اس زمانے میں میں نہ جنرل ضیاء شہید سے واقف تھا اور نہ ہی آئی ایس آئی کو جانتا تھا۔ یہ بہت بعد میں مجھے علم ہوا کہ ضیاء کون تھا۔
اللہ اکبر، بقول مختار ہاشمی صاحب رحمہ اللہ کے اللہ نے زمین پر گرنے سے پہلے ہی فرشتوں سے کہا جائو میرے ضیاء کو میرے پاس لے آئو۔ اللھم اغفرلہ وا رحمہ
ڈاکٹر یونس آر ایس او اراکان کے چیئرمین تھے، ان سے پرانے زمانے میں ملاقات ہو گئی وہ پاکستان کے دورے پر تھے، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہمیں جہاد کا فلسفہ جنرل ضیاء شہید نے دیا۔
اب غور سے پڑھ لیں کہ ان شاءاللہ پاک افغان جنگ بندی امریکا کے حکم پر نہیں بلکہ آئی ایس آئی کی مرضی سے ہو گی، ہندوستان، اسرائیل جتنے مرضی بغلگیر ہوں، امریکا جتنا مرضی شاباش دے، ہمارے گھر کے فیصلے گھر کے اندر ہی ہوں گے، افغانستان کی دھرتی مانا کہ شہیدوں کے خون سے رنگین دھرتی ہے مگر دو باتیں یاد رکھنی ہوں گی، اول یہ کہ افغانستان میں صرف افغانوں کا خون نہیں گرا بلکہ ملت اسلامیہ کے بیٹوں کا خون گرا ہوا ہے، افغانستان دوسرا پاکستان ہے، وہاں پرانی جہادی قیادت اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔
نہ افغانستان میں وطن پرستی کی گنجائش ہے نہ پاکستان میں، پاکستان کی سوچ عالمی سوچ ہے، وقت لگے گا مگر دنیا دیکھے گی۔
ہمارے بعد ہی خون شہیداں رنگ لائے گا،
یہی سرخی بنے گی زیب عنواں، ہم نہیں ہوں گے
دوسری یہ کہ جہاں افغانستان کے شہروں میں اوپر بیان کردہ ساری انٹیلی جنس ادارے موجود ہیں وہاں افغانستان ہے پتھر اور ہر بوٹے پر مارخور موجود ہے، نہ افغانستان لا وارث یے اور نہ ہی پاکستان لا وارث یے۔
ٹرمپ کی شاباشوں کی دو وجوہات ہیں، اول ٹرمپ افغانوں سے امریکا کو لگی زخموں کا بدلہ لینا چاہتا ہے، دوم وہ پاکستان کی طاقت اور قوت سے واقف ہے۔
ان شاءاللہ دو سے تین دنوں میں یا شاید آج ہی پاکستان جس کو چاہے گا ضامن مقرر کر کے جنگ بند کرا دے گا نہیں بلکہ کرا بھی دے گا اور کر بھی دے گا۔
آخری گزارش مذہبی اور سیکولر سیاست دانوں سے کر دیتا ہوں، وہ یہ کہ آپ جنگ کو اسمبلی الیکشن کی نگاہ سے نہ دیکھا کریں، حقیقت پسندی سے کام لیا کریں، میری یہ تحریر ایک مٹی کے پانی سے بھرے مٹکے میں سبز 🌳 روشنائی سے لکھ کر ڈال دیں، چالیس ماہ تک وہ پانی پیتے رہیں تا کہ آپ کے دماغ سے غلامی کے اثرات نکلیں، پاک افغان جنگ اور حالات حاضرہ پر رمضان شریف کی یہ آخری تحریر ہے ان شاءاللہ
یار زندہ صحبت باقی
محمد شبیر چوہان کاپی