کوکین ڈیلر انمول پنکی ایک قتل کیس میں بھی نامزد، تحقیقات کیلئے 3 کمیٹیاں بن گئیں
کراچی (وائس آف ایشیا) حکام نے گرفتار کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا، ملزمہ کو دیئے گئے مبینہ پروٹوکول اور اس کے سنگین جرائم کی پردہ پوشی کی کوششوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ملزمہ انمول عرف پنکی سے تفتیش اور پولیس کی غفلت کی جانچ پڑتال کے لیے 3 مختلف تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، جس کے بعد تحقیقات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، ملزمہ کے خلاف تفتیش کو شفاف اور مضبوط بنانے کے لیے ذمہ داریاں مختلف ٹیموں میں تقسیم کی گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کی سربراہی میں قائم 6 رکنی تفتیشی ٹیم ملزمہ سے منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور قتل کے مقدمات کی تفتیش کرے گی، اس ٹیم میں سی آئی اے اور ایس آئی یو کے ماہر افسران شامل ہیں جنہیں 15 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کی سربراہی میں 4 رکنی اعلیٰ سطح کی ایک الگ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر تفتیش کی نگرانی کرے گی تاکہ عدالت میں مضبوط شواہد پیش کیے جا سکیں جب کہ ایس ایس پی ساؤتھ کی سربراہی میں قائم علیحدہ ٹیم اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ملزمہ کو عدالت میں ‘وی آئی پی’ پروٹوکول کیوں دیا گیا اور پولیس قواعد کی خلاف ورزی کس نے کی۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی صرف منشیات فروش نہیں بلکہ ایک مبینہ قاتل بھی ہے، تھانہ بغدادی میں درج ایک ایف آئی آر میں ملزمہ ایک قتل کیس میں بھی نامزد ہے، پولیس اب اس زاویے سے بھی تفتیش کر رہی ہے کہ کیا یہ قتل منشیات کے کاروبار میں رکاوٹ بننے یا گینگ وار کی وجہ سے کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ خصوصی ٹیم نے انمول پنکی کو پروٹوکول دینے کے الزام میں معطل 3 پولیس افسران اور 2 لیڈی کانسٹیبلز کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں، تحقیقات میں ان نکات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ ملزمہ کا چہرہ ڈھانپ کر اور ہتھکڑی لگا کر عدالت کیوں نہیں لایا گیا؟ گارڈن پولیس سٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ کی جانچ کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ ملزمہ کو تھانے میں کہاں رکھا گیا اور افسران کا اس کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ کیا تھانے کے اہلکاروں نے دانستہ طور پر ملزمہ کو سہولت فراہم کی؟۔



تبصرہ کریں