ایمان کا سفر: ایک انگریز، ایک ایمان، ایک آزمائش
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
پچاس برس قبل خیبر ایجنسی، جو آج ضلع خیبر کے نام سے جانی جاتی ہے، میں پیش آنے والا ایک منفرد واقعہ آج بھی قبائلی تاریخ کے دلچسپ اور حیران کن ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ داستان ایک ایسے برطانوی شہری کی ہے جس نے مغربی طرزِ زندگی کو خیرباد کہہ کر اسلام قبول کیا، مگر اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد اسے ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
انیسویں صدی کے آخری برسوں اور خصوصاً بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں مغربی دنیا کے ہزاروں نوجوان روحانی سکون کی تلاش میں مشرق کا رخ کر رہے تھے۔ اسی دور کو ہِپّی تحریک کا زمانہ کہا جاتا ہے، جب بے شمار نوجوان روایتی معاشرتی اقدار سے بغاوت کرتے ہوئے نئی زندگی کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے۔
اسی دور میں ایک نوجوان برطانوی شہری بھی پاکستان پہنچا۔ اس نے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا، مسلمانوں کے کردار کو قریب سے دیکھا اور آخرکار اسلام قبول کر لیا۔ قبولِ اسلام کے بعد اس نے اپنا نام جان بٹ سے تبدیل کرکے جان محمد بٹ رکھ لیا، جو اس کی نئی شناخت اور نئے عقیدے کی علامت بن گیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد جان محمد بٹ کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان کے مختلف علاقوں کا سفر کرے، مقامی لوگوں سے ملے اور اسلامی معاشرے کو قریب سے سمجھے۔ اسی شوق نے اسے خیبر ایجنسی کے دشوار گزار علاقوں کی طرف روانہ کر دیا، جہاں اس وقت قبائلی روایات اپنی پوری قوت کے ساتھ قائم تھیں۔
اس زمانے میں وادئ تیراہ اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ قبائلی تنازعات کے باعث بھی مشہور تھی۔ یہاں مختلف قبائل اور خاندان اپنی روایات، عزت اور خودمختاری کو انتہائی اہمیت دیتے تھے، اور معمولی تنازعات بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہو جایا کرتے تھے۔
بدقسمتی سے جان محمد بٹ ایسے وقت میں اس علاقے میں داخل ہوئے جب دو آفریدی گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی جاری تھی۔ بیرونی شخص ہونے کی وجہ سے ان پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور انہیں روک لیا گیا۔
قبائلی روایات کے مطابق کسی اجنبی کی مکمل شناخت اور اس کے مقصد کا تعین ضروری سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں فوری طور پر آزاد کرنے کے بجائے وادئ تیراہ کے ایک دور افتادہ مقام پر لے جایا گیا تاکہ ان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ابتدائی دن ان کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوئے۔ زبان کا فرق، اجنبی ماحول، غیر یقینی صورتِ حال اور اپنے مستقبل کے بارے میں بے خبری ان کے لیے ایک کڑا امتحان تھی، مگر انہوں نے صبر اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
مقامی افراد نے جلد ہی محسوس کیا کہ یہ شخص نہ تو جاسوس ہے، نہ کسی خفیہ ادارے سے وابستہ ہے اور نہ ہی اس کے عزائم مشکوک ہیں۔ اس کا مقصد صرف اسلام کو سمجھنا اور مسلمانوں کے درمیان رہ کر نئی زندگی گزارنا تھا۔
قبائلی معاشرے میں مہمان نوازی ایک عظیم روایت سمجھی جاتی ہے۔ جب جان محمد بٹ کی حقیقت واضح ہونا شروع ہوئی تو ان کے ساتھ رویے میں بھی نمایاں تبدیلی آنے لگی۔ انہیں خوراک، رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جانے لگیں۔
ان دنوں انہوں نے قبائلی زندگی کو انتہائی قریب سے دیکھا۔ سادگی، غیرت، وعدے کی پاسداری، جرگے کی روایت اور اجتماعی فیصلوں کا نظام ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا، جس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔
جان محمد بٹ نے محسوس کیا کہ قبائلی معاشرے میں اختلافات ضرور موجود ہیں، مگر اس کے ساتھ انصاف، عزت اور مہمان کے احترام کی روایات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ یہی پہلو ان کے لیے حیرت کا باعث بنا۔
انہوں نے اپنی قید کے دوران مقامی لوگوں سے اسلامی تعلیمات، قبائلی رسم و رواج اور پشتون ثقافت کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ یہ تجربہ ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے لگا۔
وقت گزرنے کے ساتھ دونوں متحارب گروہوں کے بزرگوں اور جرگے نے اس معاملے پر غور کیا۔ جب یہ بات واضح ہو گئی کہ جان محمد بٹ کسی تنازعے کا حصہ نہیں بلکہ محض حالات کا شکار ہوئے ہیں، تو ان کی رہائی کی راہ ہموار ہونے لگی۔
قبائلی جرگے کے فیصلے کے بعد انہیں عزت و احترام کے ساتھ آزاد کر دیا گیا۔ اس موقع پر مقامی لوگوں نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی سلامتی کی دعا بھی کی۔
رہائی کے بعد جان محمد بٹ نے اپنے ان ایام کو زندگی کا مشکل ترین مگر سبق آموز دور قرار دیا۔ ان کے مطابق ان حالات نے انہیں صبر، برداشت اور اللہ پر بھروسے کا حقیقی مفہوم سکھایا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی بھی یاد دلاتا ہے کہ اسلام قبول کرنے والے بہت سے غیر مسلم افراد نے اپنی نئی زندگی میں مختلف آزمائشوں کا سامنا کیا، مگر انہوں نے ثابت قدمی اور حوصلے کے ساتھ اپنے ایمان کو مضبوط رکھا۔
قبائلی علاقوں کی تاریخ صرف تنازعات کی داستان نہیں بلکہ مہمان نوازی، رواداری، غیرت، بہادری اور روایتی انصاف کی بھی ایک طویل تاریخ رکھتی ہے، جسے سمجھنے کے لیے اس دور کے حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
آج جب خیبر کا علاقہ ترقی اور جدید نظام کی طرف گامزن ہے تو ماضی کے ایسے واقعات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ تاریخ میں پیش آنے والے ہر واقعے کے کئی پہلو ہوتے ہیں، جنہیں تعصب کے بغیر سمجھنا چاہیے۔
جان محمد بٹ کی یہ کہانی دراصل ایک ایسے انسان کی داستان ہے جس نے اپنی زندگی کا رخ بدلنے کا فیصلہ کیا، مگر اس فیصلے کے فوراً بعد اسے ایسے امتحانات سے گزرنا پڑا جنہوں نے اس کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا۔
یہ واقعہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مختلف تہذیبوں، قوموں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد جب ایک دوسرے کو قریب سے جانتے ہیں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور انسانیت کا مشترکہ رشتہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
قبائلی تاریخ میں محفوظ اس نوعیت کے واقعات صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سبق بھی ہیں کہ مشکل حالات میں صبر، انصاف، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہے جو اختلافات کو ختم کر سکتا ہے۔
جان محمد بٹ کی زندگی کا یہ باب آج بھی اس حقیقت کی یاد تازہ کرتا ہے کہ ایمان، حوصلہ اور اچھا کردار انسان کو سخت ترین آزمائشوں سے بھی کامیابی کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو اس تاریخی واقعے کو آج بھی زندہ رکھتا ہے۔
