فری میسن کا ”گریٹر اسرائیل“ منصوبہ
عالمی دہشت گردامریکا اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کردی
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، ایرانی وزیر دفاع اور سربراہ پاسداران انقلاب شہیدہو گئے
دجال کے نظام کو پوری دنیا پرنافذ کرنے والی قوت فری میسن نے اپنی دیگر تنظیموں کے ساتھ ملکر ”گریٹر اسرائیل“ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایک نئی جنگی بساط بچھا دی ہے ۔ایک بار پھر اسلام دشمن متحدہو گئے ہیں اس بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ محض ایک علاقائی تصادم نہیں ہے یہ عالمی دہشت گردممالک امریکا و اسرائیل کی عالم اسلام کے خلاف اسٹریجڈی کا تسلسل ہے اس کے اثرات دیر پا ہوں گے، ایک ایسے عالمی بحران کا آغاز محسوس ہو رہا ہے جو دنیا کو ایک نئی عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے براہِ راست میزائل حملے، اور پھر ایران کی جوابی کارروائی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب جنگ خفیہ سازشوں، پراکسی تنازعات اور سفارتی دباﺅسے نکل کر کھلی عسکری یلغار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے اور ریاض میں واقع امیرکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ ایک واضح اشارہ ہیں کہ خطے میں کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اپنے داماد ، بہو سمیت شہید ہوگے تھے۔امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایرانی وزیر دفاع اور سربراہ پاسداران انقلاب اور 85 طالبات سمیت ایک ہزار سے زائدشہری شہیدجبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔امریکا اور اسرائیل نے جن جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت ایران پر حملہ کیا ہے اس کے مضمرات کھل کر سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب اپنے ملک کی دفاع، سلامتی، تحفظ اور اپنے روحانی پیشوا جناب آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے پر عزم ہیں، ایرانی افواج کا دعویٰ ہے کہ میزائل حملوں میں اب تک مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد چھے سو سے زائد ہوگئی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی تو ہے لیکن کون کیا کرسکتا ہے اقوام متحدہ کا تو وجود ہی ختم ہوگیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا نے ایران میں ’بڑے پیمانے پر اہم جنگی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں، دراصل اس جارحانہ عالمی پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت طاقتور ممالک کمزور یا خودمختار ریاستوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ کسی بھی طور ’دفاعی کارروائی نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔ یہ وہی پرانا امریکی بیانیہ ہے جس کے تحت پہلے خطرے کا واویلا کیا جاتا ہے، پھر مذاکرات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے، اور پھر میزائلوں اور بموں سے ممالک کو کھنڈر بنا دیا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ”بورڈ آف پیس“ درحقیقت ”بورڈ وآف وار“ ثابت ہو چکا ہے، جس کا مقصد امن نہیں بلکہ جنگ، خوف اور عدم استحکام کو فروغ دینا ہے۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکا اور اسرائیل نے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کیلئے پورے مشرق وسطیٰ کو مستقل طور پر عدم استحکام کا شکار بنا رکھا ہے۔ گزشتہ پچیس برسوں میں امریکی سرپرستی میں کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنا کر وہاں انتشار، خانہ جنگی اور معاشی تباہی پھیلائی گئی۔ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا اعلانیہ ”گریٹر اسرائیل“ کے منصوبے کی حمایت کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ جنگ محض ایران کے خلاف نہیں بلکہ پورے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی تشکیل ِ نو کا حصہ ہے۔ ایران آج نشانہ ہے، کل کوئی اور ہوگا۔ اس خطرناک منظرنامے میں افغانستان اور پاکستان کو الگ تھلگ سمجھنا خود فریبی ہوگی۔ پاکستان پہلے ہی افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے، پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق آپریشن ”غضب الحق“ کے تحت افغانستان میں درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افغان طالبان ہلاک ہوئے۔ یہ صورتِ حال خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ امریکا کو ہوگا۔ افغانستان میں بیس سالہ جنگ کے بعد اچانک انخلا، پھر خطے میں نئی کشیدگی، اس بات کا عندیہ ہے کہ امریکا اب ایک نئی جنگی بساط بچھا رہا ہے۔ ایران اس وقت بہانہ ہے، مگر مستقبل میں اصل نشانہ پاکستان ہو سکتا ہے۔ خصوصاً اس کا ایٹمی پروگرام، اس کی جغرافیائی اہمیت اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات اس کی نظر میں ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو مسلم دنیا کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ اسرائیل اور امریکا دین اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں جبکہ امریکا کو اپنی سرزمین فوجی اڈوں کیلئے دینے والے ممالک کے حکمران دراصل غدار ہیں ۔امریکا اور اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں جو جنگ مسلط کی ہے، اس سے ان کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام دوبارہ کھول رہا ہے اور وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے، امریکا کے نزدیک ایران کے طویل فاصلے تک پہنچنے والے میزائیل بھی اس کے لیے خطرے کا باعث تھا، اسرائیل اسے پری ایمٹیو قرار دے رہا ہے حالانکہ ایران امریکا کے ساتھ ایک جامع معاہدے پر آمادہ تھا، جنیوا اور ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں ایران نے بار ہا اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اگر امریکا اقتصادی پابندیاں ختم کرتے تو ایران بھی اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو محدو کرنے کے لیے تیار ہے، ایران چاہتا تھا کہ اس امر کی ضمانت دی جائے کہ جو معاہدے امریکا سے ہو وہ تادیربرقرار رہے، اور مستقبل میں امریکا اس معاہدے سے باہر نہ نکلے۔ ایران اپنے جوہری پروگرام کے سلسلے میں امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار تھا، ایرانی وزیر ِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو بار بار یقین دہانی کروائی کہ وہ بات چیت اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، ایران نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار رہا، اس کا کہنا تھا کہ عارضی یا بے مقصد مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، وہ بالواسطہ مذاکرات اور ڈپلومیسی کے لیے تیار تھا۔ 26 فروری کو سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں عمانی ثالثی میں مذاکرات ہوئے، جس پر عمانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کو ایران کے حوالے سے جو خدشات تھا اس کے ازالے کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ ملک کے رہبر ِ اعلیٰ نے اسے شرعی طور پر ممنوع قرار دے دیا ہے۔ ایران کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے جو عزائم ہیں وہ راز نہیں رہ گئے، اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے یہ شیطانی قوتیں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ایران پر اب تک جو الزامات عاید کیے جاتے رہے، کچھ اس طرح کے الزامات عراق پر بھی عاید کیے جاتے رہے، جھوٹی رپورٹیں تیار کروائی گئیں، عراق پر الزام لگایا گیا کہ وہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کررہا ہے اور فوری طور پر عراق کے خلاف عسکری کارروائی نہ کی گئی تو اس سے دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، پھر پوری دنیا میں ایسا پروپیگنڈا کیا گیا کہ عراق کی جانب سے اپنے تنصیبات کا مشاہدہ کروانے ا ور مذاکرات پر آمادگی کی باوجود اقوامِ متحدہ کی اجازت کے بغیر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، ایک آزاد اور خود مختار ملک کی آزادی و خومختاری کو پامال کرنے، لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ ا ±تارنے، عراق کے وسائل لوٹنے، اسے تقسیم کرنے، صدام حسین کو پھانسی دینے کے بعد برطانیہ کے وزیر اعظم نے انتہائی معصومیت سے دنیا پر یہ انکشاف کیا کہ عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کسی ہتھیار کا سراغ نہیں ملا، رپورٹیں جھوٹی تھیں، جس پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ اب یہی تاریخ امریکی صدر ایران میں دہرانا چاہتے ہیں۔
ایران پر حملہ دراصل پوری امت ِ مسلمہ کیلئے ایک انتباہ ہے، مگر کہیں سے کوئی مضبوط اجتماعی ردعمل سامنے نہیں آرہا۔ چند رسمی بیانات اور تشویش کے اظہار سے آگے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ مسلم حکمرانوں کو اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی۔ اگر آج ایران تنہا کھڑا ہے تو کل کوئی اور ملک ہوگا۔ امریکا کسی کا دوست نہیںبلکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ جو آج اس کے اتحادی ہیں، وہی کل اس کے نشانے پر ہوں گے۔ تاریخ اس کی گواہ ہے۔ وطن عزیز کے تناظر میں اس بحث سے قطع نظر کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت ہو رہی ہے یا پاکستان نے دفاعی حکمت ِ عملی کے تحت افغانستان میں کارروائی کی، اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ نقصان مسلم عوام کا ہو رہا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے عام لوگ اس آگ میں جل رہے ہیں جس کا فیصلہ کہیں اور کیا جاتا ہے۔ مگر اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اس کشیدگی کی کا زیادہ اور طویل المدت نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان ایک ایسے نازک جغرافیائی ماحول میں گھرا ہوا ہے جہاں ایک طرف انڈیا جیسا روایتی اور جارح دشمن موجود ہے، جبکہ مغرب میں افغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نیا محاذ کھول رہی ہے۔ اس صوت حال کو مزید خطرناک بنانے والا پہلو یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل کھل کر افغانستان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور اسے پاکستان کے خلاف ایک اسٹرٹیجک مہرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ جس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی وقت پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام، پاکستان کی مغربی سرحد پر دباﺅ اور مشرق میں بھارت کی مستقل اشتعال انگیزی، یہ سب ایک ہی عالمی منصوبے کی کڑیاں محسوس ہوتی ہیں۔ اس کھیل میں افغانستان بھی استعمال ہو رہا ہے اور پاکستان کو بھی آہستہ آہستہ ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت سمجھنا ناگزیر ہے کہ اس پوری کشمکش میں نہ افغانستان جیتے گا، نہ پاکستان، بلکہ فائدہ انہی طاقتوں کو ہوگا جو مسلم ممالک کو آپس میں لڑا کر اپنے مفادات حاصل کرتی رہی ہیں۔وقت کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران اورعالمی طاقتیں ذمے داری کا مظاہرہ کریں اور جنگ رکوانے کی کوششیں کریں کیونکہ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آسکتی ہے۔




تبصرہ کریں