گورنر راج، عوامی حقوق اور انصاف
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے ایک بار پھر قبائلی عوام کے حقوق، ریاستی اختیارات اور جمہوری آزادیوں سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بالخصوص باڑہ میں ہونے والے احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ امن قائم کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات میں عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے۔
قبائلی عوام پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، بدامنی، نقل مکانی اور معاشی مشکلات کے دوران بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ایسے حالات میں ان کی آواز سننا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ریاستی ذمہ داری ہے۔
11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کا جواز دہشت گردی میں اضافے اور صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر تعاون نہ کرنے کو قرار دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اس اقدام کو سیاسی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ یوں ایک اہم سکیورٹی مسئلہ سیاسی اور آئینی تنازعے میں بھی تبدیل ہو گیا۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل کیے گئے اور معاملات چلانے کے لیے ایک مشاورتی کونسل قائم کی گئی۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا اور امن و امان بہتر بنانا ہے۔ تاہم ایسے غیر معمولی اقدامات کی کامیابی کا اصل معیار عوام کا تحفظ، شفاف حکمرانی اور شہری زندگی میں بہتری ہونا چاہیے۔
اس تمام صورت حال میں باڑہ کا واقعہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ 13 اکتوبر کو باڑہ میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے فائرنگ اور زخمی ہونے کے واقعات کے دعوے کیے، جبکہ انتظامیہ نے پولیس کی جانب سے براہ راست فائرنگ کے الزامات کو مسترد کیا۔ ان متضاد دعووں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جبکہ حکام نے مختلف مقامات پر گرفتاریاں اور مقدمات درج کیے جانے کی بھی تصدیق کی۔ باڑہ میں نادرا مرکز کو آگ لگانے اور سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کے واقعے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایسے واقعات کی ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی پورے علاقے یا قبیلے کو اجتماعی طور پر الزام ٹھہرا دیا جائے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عوام احتجاج کرتے ہیں تو ان کی شکایات سننے کے لیے مؤثر نظام کیوں موجود نہیں ہوتا؟ اگر کسی علاقے کے لوگ حکومتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں تو کیا ان کے مؤقف کو مذاکرات اور قانونی طریقوں سے نہیں سنا جا سکتا؟ ریاست کی طاقت کا اصل مقصد شہریوں کو دبانا نہیں، بلکہ ان کے جان و مال کا تحفظ اور قانون کی بالادستی یقینی بنانا ہے۔
قبائلی عوام کی سادگی کو ان کی کمزوری سمجھنا بھی ایک بڑی غلطی ہے۔ سادہ دل ہونا، اپنی روایات سے محبت کرنا اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا کسی معاشرے کی پسماندگی کی علامت نہیں۔ کسی بھی شہری کو اس کے لباس، زبان، علاقے یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر جاہل یا شرپسند قرار دینا انصاف اور شائستگی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
جب یہی لوگ وطن کے دفاع کے لیے قربانیاں دیتے ہیں تو انہیں بہادر، غیرت مند اور محب وطن کہا جاتا ہے۔ لیکن جب وہ امن، روزگار، تعلیم، صحت یا سیاسی حقوق کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان کے مطالبات کو بعض اوقات منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے بڑھا سکتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ ریاست کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں، لیکن ان اقدامات کے دوران بے گناہ شہریوں کو نقصان سے بچانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ امن کے نام پر ہونے والے ہر اقدام کو قانون، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں پر پورا اترنا چاہیے۔
اسی طرح احتجاج کرنے والوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی جدوجہد پُرامن اور قانونی حدود میں رکھیں۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، تشدد کرنا یا عام شہریوں کی زندگی متاثر کرنا کسی جائز مطالبے کو مضبوط نہیں کرتا۔ اختلاف کا حق اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس حق کے استعمال میں دوسروں کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اس معاملے میں نہایت اہم ہے۔ ان کی ذمہ داری امن برقرار رکھنا، شہریوں کی حفاظت کرنا اور قانون پر یکساں عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ اگر باڑہ میں کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں، اور اگر کسی مظاہرین نے قانون توڑا ہے تو اس کے خلاف بھی شواہد کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے۔
گرفتاری کسی شخص کو مجرم ثابت نہیں کرتی۔ گرفتار افراد کو اپنے خلاف الزامات جاننے، قانونی معاونت حاصل کرنے اور منصفانہ کارروائی کا حق حاصل ہے۔ کسی کو غیر ضروری طور پر حراست میں رکھنا، اس کے اہل خانہ کو معلومات نہ دینا یا قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنا عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
حکومت کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قبائلی علاقوں میں امن صرف پولیس کی تعیناتی، ناکہ بندیوں یا سخت انتظامی اقدامات سے قائم نہیں ہو سکتا۔ پائیدار امن کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد، روزگار کے مواقع، بہتر تعلیم، صحت کی سہولتیں، انصاف تک رسائی اور نوجوانوں کے لیے روشن مستقبل بھی ضروری ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو بھی اس صورت حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ وفاقی حکومت کو اپنے فیصلوں کی آئینی بنیاد اور عملی ضرورت واضح کرنی چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اعتراضات قانونی اور جمہوری طریقوں سے پیش کرنے چاہییں۔ عوامی مسائل کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انہیں حل کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔
گورنر راج جیسے غیر معمولی اقدام کی آئینی حیثیت، مدت اور نگرانی بھی عوامی بحث کا حصہ ہونی چاہیے۔ پارلیمان، عدالتوں اور متعلقہ آئینی اداروں کا کردار اس بات کو یقینی بنانے میں اہم ہے کہ ہنگامی اختیارات مقررہ حدود کے اندر استعمال ہوں۔ قومی سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ، لیکن آئینی نظام اور شہری حقوق کی اہمیت بھی برقرار رہنی چاہیے۔
میڈیا پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باڑہ کے واقعات کو سنسنی خیزی کے بجائے حقائق کی روشنی میں پیش کرے۔ پولیس، انتظامیہ، مظاہرین اور متاثرہ خاندانوں کے مؤقف کی مناسب جانچ ضروری ہے۔ غیر مصدقہ ویڈیوز، الزامات اور افواہیں حالات کو مزید خراب کر سکتی ہیں، اس لیے صحافت کا مقصد حقائق سامنے لانا اور عوام کو باخبر رکھنا ہونا چاہیے۔
قبائلی نوجوانوں کو خاص طور پر یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کی صلاحیتیں اور مستقبل پاکستان کے لیے اہم ہیں۔ انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے تعلیم، ہنر، کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ جب نوجوانوں کو عزت اور ترقی کے مساوی مواقع ملتے ہیں تو معاشرے میں استحکام اور ریاست پر اعتماد بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
باڑہ کے واقعات ایک موقع بھی فراہم کرتے ہیں کہ حکومت اور مقامی عمائدین، منتخب نمائندے، سماجی رہنما اور انتظامیہ مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں۔ ایک شفاف تحقیقاتی عمل، متاثرہ افراد کی داد رسی، غیر قانونی اقدامات کی جواب دہی اور پُرامن مذاکرات کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ عوام کی بات سنے بغیر ان کے خدشات ختم کرنا ممکن نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قبائلی عوام کے جائز مطالبات کو کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کے پیمانے پر نہ پرکھا جائے۔ کوئی شہری حکومت کا حامی ہو یا مخالف، اسے قانون کے تحت یکساں تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ ریاست کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ تمام شہریوں کی مشترکہ امانت ہے۔
پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ انصاف، آئین اور انسانی وقار کو بھی مقدم رکھا جائے۔ قبائلی عوام کو صرف قربانیوں کے وقت یاد کرنا کافی نہیں، ان کے حقوق، عزت اور مستقبل کا تحفظ بھی قومی ذمہ داری ہے۔
