تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ٹیکس میں اضافے اور صحت سے متعلق انتباہات مؤثر بنانے پر زور

تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے ٹیکس میں اضافے اور صحت سے متعلق انتباہات مؤثر بنانے پر زور

لاہور (15 اکتوبر 2026ء) اورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام لاہور میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے اور پیکٹوں پر صحت کے خطرات سے متعلق تصویری انتباہات کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔

فور پوائنٹس بائی شیراٹن ہوٹل میں منعقدہ اجلاس میں ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری محکموں کے نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، قانون نافذ کرنے والے اداروں، جامعات، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اورت فاؤنڈیشن کی نبیلہ شاہین اور ٹیم لیڈر سید صفدر رضا نے تمباکو کنٹرول کے لیے مشترکہ کوششوں اور مؤثر پالیسی سازی کی اہمیت اجاگر کی۔ کنسلٹنٹ سید ذوالفقار حسین شاہ نے کہا کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ اور نمایاں تصویری انتباہات ان کے استعمال میں کمی لانے اور عوام کو صحت کے خطرات سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ابوذر معظم، جامعہ پنجاب کے شعبہ جینڈر اسٹڈیز کی ڈاکٹر رعنا ملک، محکمہ سماجی بہبود کے میڈیکل سوشل آفیسر سمرائز حفیظ، علی زین اور پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے لیفٹیننٹ کرنل مہر فیصل نے بھی تمباکو کے استعمال کی روک تھام میں تعلیمی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی اور متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے نوجوانوں اور عام شہریوں کو آگاہ کرنے، مؤثر قانون سازی اور حکومتی اقدامات کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔ شرکا نے تمباکو کنٹرول کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے پارلیمانی عزم، عوامی آگاہی اور مسلسل مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

اورت فاؤنڈیشن نے تمباکو کے استعمال میں کمی اور صحت مند، تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے پارلیمنٹ، حکومتی اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top