رواداری تحریک پاکستان کا اقلیتی نوجوانوں کے لیے سیاسی درسگاہ کا آغاز

رواداری تحریک پاکستان کا اقلیتی نوجوانوں کے لیے سیاسی درسگاہ کا آغاز

لاہور،: رواداری تحریک پاکستان نے لاہور میں نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس (NCCP) کے مقام پر اقلیتی نوجوانوں کے لیے چھ ماہ پر مشتمل پولیٹیکل اسکول فار مائنارٹی یوتھ کا آغاز کر دیا۔ اکتوبر 2026ء سے اپریل 2027ء تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا مقصد مذہبی اقلیتوں کے نوجوانوں کو سیاسی شعور، آئینی حقوق اور جمہوری عمل میں مؤثر شرکت کے لیے تیار کرنا ہے۔

پروگرام کے تحت نوجوانوں کو سیاسی نظام، شہری حقوق اور قیادت سازی سے متعلق تربیت دی جائے گی۔ اس میں انٹرایکٹو سیشنز، کیس اسٹڈیز، تعلیمی سرگرمیاں، سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں اور اہم سیاسی اداروں کے دورے شامل ہیں۔ شرکاء اپنی برادریوں کے مسائل کے حل کے لیے تجاویز مرتب کرنے کے علاوہ اقلیتی نوجوانوں کا جمہوری میثاق بھی تیار کریں گے۔

رواداری تحریک پاکستان کے چیئرمین سیمسن سلامت نے کہا کہ اقلیتیں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں اور انہیں ریاستی اداروں اور اقتدار کے ایوانوں تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی حقوق کو محض کاغذ تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

پروگرام آرگنائزر لائبہ عمران کے مطابق سیاسی تعلیم اقلیتی نوجوانوں کو اپنے حقوق سمجھنے، اپنی آواز بلند کرنے، منظم ہونے اور قیادت سنبھالنے کے قابل بنائے گی۔ تقریب میں رواداری تحریک کی سیکرٹریٹ انچارج نوشین خالد نے پروگرام کا تعارف پیش کیا، جبکہ نوشین خالد اور نیلم گل نے اوپن فورم کی نظامت کی۔

رواداری تحریک پاکستان نے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکلز 20، 25 اور 36 پر مؤثر عمل درآمد، اقلیتوں کی حقیقی سیاسی نمائندگی اور سیاسی جماعتوں میں اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ تحریک نے نفرت انگیز تقاریر، ہجوم کے تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف بھی فیصلہ کن اقدامات پر زور دیا۔

تحریک کے مطابق جمہوریت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب مذہبی اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کو مساوی مواقع، مؤثر نمائندگی اور فیصلہ سازی میں شرکت کا حق حاصل ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top