ایران و لبنان سے جنگ بندی پر اسرائیلی عوام ناراض، نیتن یاہو کو شدید تنقید کا سامنا

ایران اب بھی مضبوط ہے اور اس کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے،عالمی ماہرین
تہران(وائس آف ایشیا)اسرائیل میں حالیہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے پر عوامی اور سیاسی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 61 فیصد اسرائیلی شہری اس جنگ بندی کے خلاف ہیں جبکہ 73 فیصد کا خیال ہے کہ اگلے ایک سال میں ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔یہ سروے اسرائیلی انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ایران کے خلاف مکمل فوجی کامیابی نہ ملنے پر مایوس ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انہوں نے جنگ کے نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ایران کے نظام کو ختم کرنے اور اس کے جوہری و میزائل پروگرام کو مکمل تباہ کرنے کے وعدے کو بھی پورا نہیں کیا۔بین الاقوامی ماہرین کی رائے کے مطابق ایران اب بھی مضبوط ہے اور اس کی فوجی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔اسرائیل کے اپوزیشن رہنمائوں نے بھی نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، یائر لاپید نے جنگ بندی کو حکومتی ناکامی قرار دیا جبکہ یائر گولان نے اسے اسرائیل کی بڑی اسٹریٹجک شکست کہا ہے۔69 فیصد اسرائیلی شہری لبنان میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حامی ہیں جہاں حالیہ حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق موجودہ صورتِ حال سے متعلق بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے برسوں تک ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی مخالفت کی جس کے باعث اب جنگ بندی کو عوام قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اسرائیل اس معاملے میں امریکا کے فیصلوں کا پابند ہے اور نیتن یاہو امریکی حمایت کے بغیر ایران کے خلاف کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال یہی رہی تو نیتن یاہو کو اندرونِ ملک مزید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد پہلے ہی ان پر تنقید جاری ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top