واشنگٹن (وائس آف ایشیا ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت سچویشن روم میں ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا جس میں صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے بھی فون پر بات چیت کی، اس اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک تھے۔
بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹر ہیگستھ، وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ، وائٹ ہاؤس کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کے ساتھ امریکی صدر کے نمائندے سٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
بتایا جارہا ہے کہ سچویشن روم میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق نئی صورتحال اور ایران سے مذاکرات پر بات پر گفتگو کی گئی، اجلاس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے کم از کم ایک مرتبہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کی مذاکراتی قیادت سے فون پر بات کی گئی۔
اس ضمن میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران سے مذاکرات جاری ہیں، ان میں کوئی سرپرائز مل سکتا ہے، مذاکرات میں کافی نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، ایران نے آبنائے ہرمزکو مکمل کھول دیا، تہران سے ڈیل کا عمل اچھی طرح سے جاری ہے، مذاکرات ویک اینڈ کے دوران بھی جاری رہیں گے، پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نہیں سجھتا باقی اختلافات اتنے اہم ہیں لیکن اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ بم گرانا شروع کردیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہوتے ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی جائے گی کیوں کہ ایران جنگ میں سو فیصد اہداف حاصل کرلیے، ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیارنہیں ہوں گے، امریکہ ایران کی نیو کلیئرڈسٹ حاصل کرے گا، تباہ کیے گئے جوہری پلانٹ کی باقیات بھی واپس لائیں گے، کسی مالی لین دین کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، نیٹو کی جانب سے کال موصول ہوئی، ہمیں نیٹو کی ضرورت نہیں ان کو ہماری ضرورت ہے، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے۔
