واشنگٹن (وائس آف ایشیا) اسلام آباد میں ایران کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد اپنے پہلے بیان میں انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے میٹنگ اچھی رہی اور زیادہ تر نکات پر اتفاق کیا گیا لیکن واحد نکتہ جو واقعی اہمیت رکھتا تھا نیوکلیئراس پر عدم اتفاق رہا، اب فوری طور پر امریکی نیوی آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے تمام بحری جہازوں کو بلاک کرنے کا عمل شروع کر دے گی۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کسی وقت ہم سب کو آنے جانے کی اجازت کی بنیاد پر پہنچ جائیں گے لیکن ایران نے صرف یہ کہہ کر ایسا نہیں ہونے دیا کہ وہاں کہیں کوئی بارودی سرنگ موجود ہے جس کے بارے میں ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، یہ عالمی بھتہ خوری ہے اور ممالک کے رہنما خاص طور پر امریکہ سے کبھی بھی بھتہ نہیں لیا جاسکتا، میں نے اپنی بحریہ کو بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس بحری جہاز کو تلاش کرنے اور روکنے کی بھی ہدایت کی ہے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا، کوئی بھی جہا جو غیر قانونی ٹول ادا کرتا ہے اسے بلند سمندروں پر محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کرنا شروع کر دیں گے جو ایرانیوں نے آبنائے ہرمز میں بچھائی تھیں، کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلاتا ہے، اسے جہنم میں پہنچا دیا جائے گا، ایران سب سے بہتر جانتا ہے کہ اس صورتحال کو کیسے ختم کیا جائے جو پہلے ہی ان کے ملک کو تباہ کر چکی ہے، ان کی بحریہ ختم ہو چکی، ان کی فضائیہ ختم ہوگئی، ان کے اینٹی ایئر کرافٹ اور راڈار بیکار ہیں، خمینی، اور ان کے زیادہ تر لیڈرز مر چکے ہیں، یہ سب ان کے ایٹمی عزائم کی وجہ سے ہے۔
امریکہ صدر نے خبردار کیا کہ جلد ہی ناکہ بندی شروع ہو جائے گی، دوسرے ممالک بھی اس ناکہ بندی میں شامل ہوں گے، ایران کو بھتہ خوری کے اس غیر قانونی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، وہ پیسہ چاہتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ نیوکلیئر چاہتے ہیں، کسی مناسب وقت پر ہماری فوج ایران سے جو کچھ بچا ہے اسے بھی ختم کر دے گی کیوں کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کیا تھا، وہ جان بوجھ کر ایسا کرنے میں ناکام رہے، اس کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت سے لوگوں اور ممالک کے لیے بے چینی، نقل مکانی اور تکلیف ہوئی۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران کا کہنا ہے انہوں نے بارودی سرنگیں پانی میں بچھادی ہیں حالانکہ ان کی تمام بحریہ اور ان کے زیادہ تر “مائن ڈراپرز” مکمل طور پر اڑا دی گئی ہیں، انہوں نے ایسا کیا ہو سکتا ہے لیکن کون سا جہاز کا مالک موقع لینا چاہے گا؟ ایران کی ساکھ کے لیے بڑی بے عزتی اور مستقل نقصان ہے، ان کے لیڈرز کے پاس کیا بچا ہے لیکن ہم ان سب سے آگے ہیں، جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا، وہ بہتر طور پر اس بین الاقوامی واٹر وے کو کھولنے اور تیز کرنے کا عمل شروع کریں، ان کی طرف سے کتاب میں موجود ہر قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اس ملاقات کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کیا ہے جو اسلام آباد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی مہربان اور قابل قیادت کے ذریعے ہوئی، وہ بہت ہی غیر معمولی آدمی ہیں اور بھارت کے ساتھ ایک خوفناک جنگ میں 30 سے 50 ملین جانیں بچانے کے لیے مسلسل میرا شکریہ ادا کرتے ہیں، میں ہمیشہ یہ سن کر تعریف کرتا ہوں جس قدر انسانیت کی بات کی گئی ہے وہ ناقابل فہم ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت صبح سویرے شروع ہوئی اور رات بھر جاری رہی، تقریباً 20 گھنٹے مذاکرات ہوئے، میں بہت تفصیل میں جا سکتا ہوں اور بہت کچھ کے بارے میں بات کرسکتا ہوں جو حاصل ہو چکا ہے لیکن صرف ایک چیز اہم ہے کہ ایران اپنے جوہری عزائم کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، بہت سے طریقوں سے جن نکات پر اتفاق کیا گیا تھا وہ ہماری ملٹری آپریشنز کو نتیجے تک جاری رکھنے سے بہتر ہیں لیکن نیوکلیئر پاور کو ایسے غیر مستحکم، مشکل، غیر متوقع لوگوں کے ہاتھ میں رہنے کی اجازت دینے کے مقابلے میں ان تمام نکات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
