جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری پر زور، پاکستان اور چین نے 5 نکاتی منصوبہ پیش کردیا

جنگ سے ناصرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، وزیراعظم نے امن کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دیں؛ ترجمان دفتر خاجہ کی بریفنگ

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) پاکستان نے خطے میں جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتکاری پر زور دیتے ہوئے چین سے مل کر 5 نکاتی منصوبہ پیش کردیا۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے، پاکستان نے سفارتکاری اور مذاکرات کو ہی مسائل کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا ہے، حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور ہوا،اس تنازعے کے باعث نا صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے، پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے آنے والے وفود کو ممکنہ امریکہ اور ایران مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا، جن کے انعقاد کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے، اس اقدام کو شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے، وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کو کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرے کو روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں، اس موقع پر بات چیت اور سفارتکاری کو ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ قرار دیا گیا۔

ترجمان فارن آفس نے کہا کہ تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا، چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا، علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا، یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گہرے مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس دورے کے دوران افغانستان سمیت دیگر علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئے، ایک اہم پیشرفت کے طور پر چین اور پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا، اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا، جلد از جلد امن مذاکرات کے آغاز، متعلقہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، اور مسائل کے حل کے لیے صرف بات چیت اور سفارتکاری کو اپنانے پر اتفاق کیا گیا، غیر فوجی اہداف کے تحفظ، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

طاہر اندرابی کہتے ہیں کہ پاکستان اور چین کے مشترکہ پانچ نکاتی امن منصوبے میں ہرمز کی گزرگاہ میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، پانچ نکاتی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہرمز کی گزرگاہ میں جہازوں، عملے اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے اور اس اہم سمندری راستے کو جلد از جلد معمول کے مطابق کھولا جائے، اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کو بھی دوبارہ تسلیم کیا گیا، جو خطے میں دیرپا امن کے لیے بنیادی اصول ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top