ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو امریکی محکمہ انصاف کی سربراہی سے ہٹا دیا

بونڈی کی سربراہی میں محکمہ انصاف جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے اجرا اور جنسی مجرم کی تحقیقات کے معاملے کی وجہ سے دباﺅ میں رہا ہے.امریکی نشریاتی ادارے کا دعوی

واشنگٹن(وائس آف ایشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو امریکی محکمہ انصاف کی سربراہی سے ہٹا دیا ہے اٹارنی جنرل پام بونڈی صدر ٹرمپ کی دیرینہ اتحادی اور ان کی انتظامیہ کی مضبوط حمایتی رہی ہیں. ٹرمپ نے ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بونڈی نجی شعبے میں ایک کردار کی طرف منتقل ہو رہی ہیں بونڈی کی سربراہی میں محکمہ انصاف جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کے اجرا اور جنسی مجرم کی تحقیقات کے معاملے کی وجہ سے دباﺅ میں رہا ہے اس کے علاوہ انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کرنے والے سینکڑوں پراسکیوٹرزکو عہدوں سے برطرف کردیا تھا.

امریکی نشریاتی ادارے کا اپنے ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ صدرٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے جیفری ایبسٹین کیس کے علاوہ ایف بی آئی کے سابق سربراہ جیمزکومی اور ٹرمپ کے دیگر مخالفین کے خلاف جاری تحقیقات کے حوالے سے پام بونڈی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے. دوسری جانب پام بونڈی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں ریاست فلوریڈا سے سینیٹ یا ایوان نمائندگان کی نشست پر حصہ لینے پر غورکررہی ہیں وہ حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی دوسری عہدیدار ہیں جنہیں عہدے سے ہٹایا گیا، اس سے پہلے مارچ میں کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہی سے ہٹا یا گیا تھا بونڈی کی جگہ ان کے سابق نائب ٹوڈ بلانش لیں گے بونڈی نے کہا کہ وہ بلانش کو اپنا کام منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں.

انہوں نے کہا کہ اپنے نئے نجی شعبے کے عہدے میں جس کی انہوں نے نشاندہی نہیں کی وہ صدر ٹرمپ اور اس انتظامیہ کے لیے لڑائی جاری رکھیں گی یہ اعلان اس جارحانہ کانگریسی سماعت کے دو ماہ سے بھی کم عرصے بعد سامنے آیا ہے جس میں بونڈی سے قانون سازوں نے سخت سوالات کیے اور اس دوران معاملہ سخت جملوں کے تبادلوں تک جا پہنچا سماعت کے دوران انہوں نے کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن کانگریس کوناکام اور بیکار شخص کہا تھا ‘پام بونڈی کے ممکنہ متبادل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ایڈمنسٹریٹر لی زیلڈن کا بھی آرہا تھا جنہوں نے گزشتہ روزصدرٹرمپ سے ملاقات کی تھی‘اسی روز صدر نے اٹارنی جنرل پام بونڈی سے بھی ملاقات کی تھی سی این این نے اپنے ذرائع کے حوالے سے ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کو ”سخت“ قرار دیا.

قبل ازیں امریکی نشریاتی اداروںسی بی ایس ‘ سی این این اور نیویارک ٹائمزنے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھاکہ امریکی صدر ایبسٹین فائلزکیس میں محکمہ انصاف کی سربراہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ‘رپورٹ میں کہا گیا ہے ہوم لینڈسیکورٹی کی سربراہی سے ہٹائی جانے والی کرسٹی نوم اور ایف بی آئی اے کے ڈائریکٹرکاش پٹیل کے درمیان بھی کشیدگی چل رہی ہے کیونکہ کرسٹی نوم ایف بی آئی کے سربراہی کے لیے لابنگ کررہی ہیں .

سی این این کا کہنا ہے کہ اس نے تین مختلف ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ پام بونڈی اور صدرٹرمپ کے درمیان ”تناﺅ“جنوری کے ابتدائی دنوں سے چل رہا تھا اور انہوں نے حالیہ دنوں میں بوندی کو برطرف کرنے کے امکان کے بارے میں اپنے قریبی حلقوں سے مشاورت کی تھی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیاتھا کہ ملاقات میں گفتگو کے دوران ٹرمپ نے بونڈی کومحکمہ انصاف سے علیحدگی کے بعد بطور جج تقرری کی پیشکش بھی کی تھی.

سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ متعدد محاذوں پر بونڈی سے مایوس ہو چکے ہیں خصوصا جیفری ایپسٹین فائلزکے معاملے کو درست طریقے سے ہینڈل نہ کرنے پر صدرٹرمپ ان سے شدید ناراض ہیںصدراٹارنی جنرل سے اس بات پر بھی برہم ہیں کہ بونڈی نے صدرکے مخالفین کے بارے میں تفتیش اورمقدمات کو بھی ٹھیک طرح سے ہینڈل نہیں کیا سی این این نے ٹرمپ کے اندرونی حلقے کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدراور ان کے قریبی لوگوں میں تاثرپایا جاتا ہے کہ اٹارنی جنرل بونڈی ایپسٹین فائلز کے معاملے کو مس ہینڈل کیااور عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایبسٹین فائلزکیس میں بعض ایسے اقدامات اور اعلانات کیئے جن سے انہیں ہٹنا پڑا جس سے تاثر قائم ہوا کہ انتظامیہ نامناسب طریقے سے مواد کو عوام تک رسائی سے روک رہی ہے بونڈی نے نئی انتظامیہ کے قیام کے بعد فروری 2025 میں” فاکس نیوز “ سے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایپسٹین کے کلائنٹس کی فہرست اس وقت میری میز پر نظرثانی کے لیے موجود ہے جبکہ بعد میں موقف اختیار کیا گیاکہ ایسی کوئی فہرست موجود نہیں ہے.

بونڈی نے کہا کہ انٹرویوکے دوران انہوں نے ایپسٹین کی کیس فائل اور تفتیش سے متعلق دستاویزکا حوالہ دیا تھا نہ کہ کسی مخصوص کلائنٹ لسٹ کا پام بونڈی نے اس ماہ کے آخر میں ایپسٹین فائلزکیس کے معاملے پر سوالوں کے جواب اور بیان دینے کے لیے ہاﺅس اور سینیٹ کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوناتھا قبل ازیں مارچ میں ان کی کمیٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر سخت کلامی کے بعد ڈیموکریٹک اراکین اٹھ کرباہرچلے گئے تھے اور کمیٹی کے ریپبلکن کے سامنے انہوں نے ریکارڈ کروایا ‘سوالوں کے جواب دیئے .

سی بی ایس نیوز کا دعوی ہے کہ پام بونڈی کو ہٹانے کا فیصلہ جنوری میں کیا گیا تھا تاہم ایران جنگ کی وجہ سے میڈیا پرایپسٹین کیس کی کوریج تقریبا ختم ہو گئی تھی لیکن اب دوبارہ اس معاملے نے سراٹھانا شروع کردیا ہے پچھلے ہفتے ایف بی آئی کے ڈائریکٹرکاش پیٹل بھی کمیٹی کے سامنے ایبسٹین فائلزکیس میں کمیٹی کے ڈیموکریٹس اراکین کے سوالوں کے جواب دینے میں واضح طور پر نام رہے خاص طورکیلی فورنیا سے کانگریس کے رکن اور امریکی ایئرفورس کے سابق وکیل ٹڈلیو کی جانب سے کی جانے والی جرح کے جواب میں پٹیل جواب دینے میں بری طرح ناکام رہے اور ہر سوال کے جواب میں وہ کہتے رہے کہ انہیں علم نہیں.

امریکی اداروں کا کہنا ہے کہ صدرٹرمپ جیفری ایبسٹین فائلزکیس کے معاملے میں موثردفاع میں ناکامی پر اپنی انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں پر شدید برہم ہیں جن میں اٹارنی جنرل پام بونڈی اور ایف بی آئی ڈائریکٹرکاش پٹیل شامل ہیں ‘رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاﺅس کے ویسٹ ونگ میں یہ خبریں کئی ہفتوں سے گردش کررہی ہیں ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ بونڈی نے نجی طور پر ساتھیوں سے پوچھا تھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ واقعی ہی ان کا عہدہ خطرے میں ہے؟ ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اگلی برطرفی ایف بی آئی کے سربراہ کاش پٹیل کی ہوسکتی ہے. 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top