لاہور (تجمل عباس بھٹی سے)
14 سالہ علی حسن کو تشدد کر کے قتل کر دیا گیا
تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ چونگی امر سدو میں کریانہ سٹور کے مالک سمیع اللہ بچے کو تشدد کا نشانہ بناتا رہا اور پھر حالت غیر ہونے پر بچے کی والدہ کو گھر میں کال کی کہ اپ کے بچے طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور یہ لو 400 روپیہ اور اس کو گھر لے جائیں اپ کے بچے کو ہیضہ ہونے کا بہانہ کیا اور گھر والوں کو کہا بچے کو ہاسپٹل لے کر پہنچے تو ڈاکٹر چیک کرنے پر پوچھنے لگے کہ اپ نے بچے پر کوئی تشدد کیا ہے جبکہ گھر والوں کا کہنا ہے کہ کریانہ سٹور مالک شیخ سمیع اللہ ہاسپٹل میں پہنچا اور پہنچ کر اس بچے کو گلے لگا کر بچے سے اونچی اونچی اواز میں معافی مانگنے لگا مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے معاف کر دو اور دوسری طرف محلے داروں نے بچے کی والدہ کو کہا کہ اس کا مالک سمیع اللہ اس پر ۔تاروں اور ڈنڈوں کے ساتھ تشدد کرتا تھا اور اج صبح تاروں تاروں کے ساتھ بہت ہی بری طرح سے اپ کے بچے پر تشدد کرتا رہا جس کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہو گئی اور ڈاکٹروں کی جدوجہد کرنے کے باوجود بھی بچہ دم توڑ گیا ایک لاچار اور مجبور بے سہارا کی
وزیراعلی پنجاب مریم نواز اور اعلی حکام سے انصاف کی اپیل
مقتول کی نامزد ملزم سمیع اللہ کے خلاف مقدمہ درج
ملزم کو گرفتار کر کے سزا دلوائی جائیگی
