اخلاقی خاموشی کی کشمکش

تحریر: ڈاکٹر ذاکر اللہ خان
یہ مضمون میرے پی ایچ ڈی تھیسس کے تحقیقاتی کام سے ماخوذ ہے اور اس میں پاکستان کے میڈیا اور اشتہاری اداروں میں اخلاقی مسائل کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ میرا آرٹیکل
“Ethical Dilemmas of Moral Muteness in Media and Advertising Agencies in Pakistan”
ان اداروں میں موجود اخلاقی کشمکش اور خاموشی کے اثرات پر روشنی ڈالتا ہے۔
پاکستان کے میڈیا، اشتہارات اور پبلک ریلیشنز کے شعبے میں آج ایک ایسا اخلاقی بحران نمایاں ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بحران جھوٹ یا معلومات کی گمراہی سے زیادہ خاموشی سے متعلق ہے — وہ خاموشی جو سچ کو جانتے ہوئے اختیار کی جاتی ہے۔ یہی خاموشی بعد میں اجتماعی بداعتمادی، ادارہ جاتی زوال، اور صحافتی ساکھ کے انہدام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کاروباری اخلاقیات کے معروف مفکر Frederick B. Bird نے اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک تصوری فریم ورک پیش کیا ہے جسے Moral Muteness کہا جاتا ہے، یعنی اخلاقی معاملات پر دانستہ چپ سادھ لینا۔
سادہ لفظوں میں، اخلاقی خاموشی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی پیشہ ور کو معلوم ہو کہ کوئی فیصلہ، کوئی خبر، کوئی مہم یا کوئی اشتہار اخلاقی طور پر درست نہیں، مگر وہ اسے زبان پر لانے سے گریز کرے۔ یہ خاموشی لاعلمی سے جنم نہیں لیتی، بلکہ اکثر مکمل شعور کے ساتھ اختیار کی جاتی ہے۔ یوں کہا جائے تو ہمارے بہت سے نیوز رومز اور ایجنسیوں میں مسئلہ اخلاق کی کمی نہیں، اخلاقی گفتگو کی کمی ہے۔
پاکستانی میڈیا اور اشتہاری صنعت میں روزانہ ایسے لمحات ا?تے ہیں جہاں صحافی، پروڈیوسر، کری ایٹو ہیڈ، سوشل میڈیا منیجر یا اکاو?نٹ ڈائریکٹر کو واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لائن، یہ فریم، یہ اسکرپٹ یا یہ کیپشن کسی نہ کسی سطح پر عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔ لیکن فیصلہ سازی کے کمرے میں داخل ہوتے ہی زبان بدل جاتی ہے۔ اخلاقی سوال، کاروباری سوال بن جاتا ہے، اور ضمیر، پروجیکٹ ٹائم لائن کے نیچے دب جاتا ہے۔
یہ خاموشی تین انداز سے سامنے ا?تی ہے۔ پہلی صورت یہ ہوتی ہے کہ غلط کام کو دیکھ کر بھی اس کے خلاف بات نہ کی جائے۔ ایک خبر کو جان بوجھ کر ادھورا دکھایا جائے، ایک اشتہار میں مبالغہ شامل کیا جائے، کسی طاقت ور اسپانسر کے مفاد کے لیے خبر کی شدت کم کر دی جائے، مگر میٹنگ میں کوئی یہ نہ کہے کہ یہ عمل اخلاقی طور پر غلط ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں خاموشی خود ایک فیصلہ بن جاتی ہے۔
دوسری صورت اس سے بھی زیادہ خاموش اور زیادہ مہلک ہے۔ جب کوئی ادارہ، کوئی کلائنٹ یا کوئی مدیر درست راستہ اختیار کرتا ہے، مالی نقصان کے باوجود جھوٹ سے انکار کرتا ہے یا کسی حساس موضوع پر ذمہ دارانہ موقف اپناتا ہے، مگر اس عمل کو اخلاقی زبان میں سراہا ہی نہیں جاتا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ“پالیسی کے مطابق”تھا، یا“برینڈ امیج کے لیے بہتر”تھا، مگر یہ نہیں کہتے کہ یہ اخلاقی جرات تھی۔ یوں نیکی بھی غیر مرئی رہتی ہے اور اخلاقی معیار ادارے کی ثقافت کا حصہ بن ہی نہیں پاتا۔
تیسری صورت سب سے خطرناک ہے، کیونکہ اس میں اخلاقی مسئلہ مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کو اسٹریٹجی کہا جاتا ہے، مبالغے کو پوزیشننگ کہا جاتا ہے، سچ چھپانے کو ایڈیٹوریل ڈسکریشن کہا جاتا ہے اور عوامی مفاد کو ریٹنگ اور انگیجمنٹ کے ترازو میں تول لیا جاتا ہے۔ زبان بدلتے ہی مسئلہ بھی بدل جاتا ہے۔ اخلاقی سوال، ٹیکنیکل مسئلہ بن جاتا ہے، اور ضمیر، فائل نمبر میں دفن ہو جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستانی میڈیا اور اشتہاری صنعت کا اصل اخلاقی المیہ جنم لیتا ہے۔ یہاں اکثر لوگ برے نہیں ہوتے، بلکہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ طاقت ور اشتہاری مافیا، سیاسی دباو? یا ادارہ جاتی مفادات کے سامنے اخلاقی بات کرنا پیشہ ورانہ خودکشی بھی بن سکتی ہے۔ انہیں یہ بھی خوف ہوتا ہے کہ اگر وہ بولیں گے تو انہیں“مشکل ا?دمی”،“غیر عملی”، یا“ٹیم اسپرٹ سے خالی”سمجھا جائے گا۔
یہاں اصل چیلنج یہ ہے کہ ہماری پیشہ ورانہ تربیت میں اخلاقیات کو اکثر ایک اضافی مضمون سمجھا جاتا ہے، بنیادی صلاحیت نہیں۔ ہم نوجوان صحافیوں اور کری ایٹو پروفیشنلز کو سکھاتے ہیں کہ خبر کیسے بنانی ہے، کمپین کیسے وائرل کرنی ہے، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ اگر سچ اور مفاد ا?منے سامنے کھڑے ہوں تو زبان کیسے استعمال کرنی ہے۔ ہم انہیں ڈیٹا، اینالیٹکس اور مارکیٹ ٹرینڈز پڑھاتے ہیں، مگر اخلاقی دلیل پیش کرنے کا ہنر نہیں دیتے۔
ایک اور بڑا مسئلہ ادارہ جاتی ثقافت کا ہے۔ ہمارے کئی اداروں میں اختلاف کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ سوال اٹھانا بدتمیزی بن جاتا ہے اور اخلاقی نکتہ اٹھانا ذاتی حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً باصلاحیت اور حساس لوگ خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ وہ اپنے دل میں جانتے ہیں کہ کچھ درست نہیں ہو رہا، مگر زبان پر یہی جملہ ا?تا ہے کہ“یہ ہمارا دائرہ نہیں ”یا“اوپر سے فیصلہ ہو چکا ہے”۔
یہ صورتحال محض صحافت یا اشتہارات تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات براہ راست معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ جب میڈیا خود سچ پر خاموش ہو جائے تو عوام کے لیے سچ کی پہچان بھی دھندلا جاتی ہے۔ جب اشتہارات حقیقت کے بجائے خواب بیچنے لگیں تو صارف دھیرے دھیرے ہر پیغام پر بدگمان ہو جاتا ہے۔ یوں اعتماد کا وہ رشتہ ٹوٹتا ہے جو کسی بھی میڈیا سسٹم کی بنیاد ہوتا ہے۔
اخلاقی خاموشی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ غلط عمل ا?ہستہ ا?ہستہ معمول بن جاتا ہے۔ ا?ج جو کام ضمیر کو کھٹکتا ہے، کل وہ روٹین کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر نئے ا?نے والے ورکرز اسی ماحول میں تربیت پاتے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس پیشے میں کبھی اخلاقی سوال بھی اہم ہوا کرتے تھے۔ یوں بدعملی ادارے کی یادداشت میں شامل ہو جاتی ہے۔
یہاں ایک گہرا اخلاقی مخمصہ بھی جنم لیتا ہے۔ ایک طرف روزگار کا دباو?، خاندان کی ذمہ داریاں اور کیریئر کی غیر یقینی صورت حال ہے، اور دوسری طرف پیشہ ورانہ دیانت۔ ہر صحافی، ہر ایڈیٹر اور ہر کری ایٹو ہیڈ کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر میں نے بول دیا تو شاید میں اگلی میٹنگ میں نہ ہوں، مگر اگر میں نے نہ بولا تو میں خود کس جگہ کھڑا ہوں گا؟
یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاقی خاموشی اور اخلاقی ا?واز کا فرق پیدا ہوتا ہے۔ اخلاقی ا?واز کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے میں لڑائی کی جائے یا ادارے کو دشمن بنا لیا جائے۔ اصل سوال زبان اور اسلوب کا ہے۔ اخلاقی بات کو جذباتی نعرہ بنانے کے بجائے پیشہ ورانہ دلیل میں ڈھالنا ایک مہارت ہے، جو ہمارے تعلیمی اور تربیتی نظام میں تقریباً ناپید ہے۔
حل کا پہلا قدم یہ ہے کہ ادارے اخلاقی گفتگو کو باضابطہ حصہ بنائیں۔ نیوز روم میٹنگ ہو یا کری ایٹو ریویو، وہاں صرف ٹارگٹ اور ڈیڈ لائن نہیں بلکہ یہ سوال بھی جگہ پائے کہ اس فیصلے کا سماجی اور اخلاقی اثر کیا ہوگا۔ جب تک اخلاقیات کو کارکردگی کے فریم میں شامل نہیں کیا جائے گا، تب تک وہ محض نصیحت بن کر رہ جائیں گی۔
دوسرا حل اخلاقی تربیت ہے، مگر روایتی لیکچر کی صورت میں نہیں۔ حقیقی کیس اسٹڈیز، مقامی مثالیں اور پاکستانی تناظر میں بنائے گئے منظرنامے اس تربیت کا حصہ ہونے چاہئیں، تاکہ نوجوان پروفیشنلز یہ سیکھ سکیں کہ مشکل وقت میں الفاظ کیسے چنے جاتے ہیں اور طاقت کے سامنے دلیل کیسے رکھی جاتی ہے۔
تیسرا اور سب سے اہم حل قیادت کا کردار ہے۔ اگر ادارے کے سربراہ خود صرف کاروباری زبان بولیں گے تو ماتحت بھی وہی زبان سیکھیں گے۔ لیکن اگر لیڈر کسی فیصلے پر یہ کہنے کی ہمت کریں کہ یہ اخلاقی طور پر درست ہے یا یہ ہمارے اقدار سے متصادم ہے، تو پورے ادارے کا لہجہ بدل سکتا ہے۔ اخلاقیات اوپر سے نیچے ا?تی ہیں، فائل سے نہیں۔
چوتھا حل یہ ہے کہ ادارے ان لوگوں کو تحفظ دیں جو مشکل سوال اٹھاتے ہیں۔ جب تک سوال کرنے والا خود کو غیر محفوظ محسوس کرتا رہے گا، اخلاقی ا?واز پیدا نہیں ہو سکتی۔ شکایت کے خفیہ نظام، اندرونی احتساب اور شفاف پالیسیز اخلاقی خاموشی کو توڑنے کے عملی اوزار بن سکتے ہیں۔
ا?خر میں سب سے بنیادی حل خود ہر پیشہ ور کے اندر سے نکلتا ہے۔ یہ سوال کہ میں صرف ایک ملازم ہوں یا ایک ذمہ دار ابلاغ کار بھی ہوں؟ کیونکہ میڈیا میں کام کرنے والا فرد صرف تنخواہ لینے والا کارکن نہیں ہوتا، وہ سماجی شعور کی تشکیل میں حصہ دار بھی ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار دراصل اپنی پیشہ ورانہ شناخت سے انکار ہے۔
پاکستان کو ا?ج ایسے میڈیا اور اشتہاری اداروں کی ضرورت ہے جو صرف طاقت ور حلقوں کے ترجمان نہ ہوں بلکہ معاشرے کے اخلاقی ا?ئینے بھی ہوں۔ یہ کام قوانین سے زیادہ زبان سے شروع ہوتا ہے۔ جس دن ہم نے میٹنگ روم میں یہ کہنا سیکھ لیا کہ یہ فیصلہ اخلاقی طور پر درست نہیں، اسی دن اخلاقی خاموشی کا قلعہ پہلی بار ہلنا شروع ہو جائے گا۔
سچ یہ ہے کہ ہمارے اداروں کو مزید سافٹ ویئر، مزید کیمرے یا مزید ڈیجیٹل ٹولز سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ اخلاقی جرات ہے۔ اور یہ جرات کسی ورکشاپ سے نہیں، روزمرہ کے چھوٹے فیصلوں سے پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ ا?خرکار تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو خاموشی سے کامیاب ہوئے، بلکہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مشکل وقت میں درست بات کہنے کا حوصلہ کیا