کبھی کسی گاؤں کے باہر اس اسکول کی عمارت کو دیکھا ہے جس کی چھت گر چکی ہو، دیواروں پر سیلاب کا نشان ہو، اور جس کے دروازے پر تالا پڑا ہو؟ ایسی عمارتیں پاکستان کے کسی نہ کسی کونے میں آج بھی موجود ہیں، اور ان کے اندر خاموشی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی چیخ سنائی دیتی ہے۔ یہ نسل وہ ہے جسے ہم “آؤٹ آف اسکول چلڈرن” کے سرکاری نام سے پکارتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ پچیس ملین سے زیادہ بچے ہیں جو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت کتابوں کی بجائے کھیتوں، کارخانوں، یا گھروں کی چاردیواری میں گزار رہے ہیں۔
ہمارے حکمران اسے “ایمرجنسی” کہتے ہیں۔ یہ لفظ اب اتنی بار دہرایا جا چکا ہے کہ اپنی سنگینی کھو چکا ہے۔ لیکن ذرا اعداد و شمار پر نظر دوڑائیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ معاملہ محض الفاظ کا نہیں۔ تازہ ترین سرکاری سروے کے مطابق پاکستان کے 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ان میں سے بیس فیصد کبھی داخل ہی نہیں ہوئے، اور باقی داخلے کے بعد راستے میں ہی چھوڑ گئے۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے بلکہ یہ آسٹریلیا جیسے ملک کی پوری آبادی کے برابر بچے ہیں جو کلاس روم سے باہر بیٹھے ہیں۔قومی سطح پر شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور حکومت اسے کامیابی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ مگر اوسط اعداد و شمار اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ مردوں کی خواندگی 73 فیصد ہے تو خواتین کی بمشکل 52 سے 54 فیصد۔ شہروں میں یہ شرح 77 فیصد تک جاتی ہے، دیہات میں 55 فیصد سے آگے نہیں بڑھتی۔ اور جب صوبوں کی بات آتی ہے تو تفریق مزید گہری ہو جاتی ہے: پنجاب میں شرح خواندگی 68 فیصد کے قریب ہے جبکہ بلوچستان میں یہ صرف 43 فیصد پر رکی ہوئی ہے۔ کیا یہ ایک ہی ملک کے دو صوبے ہیں یا دو مختلف دنیائیں؟اصل المیہ صرف داخلوں کا نہیں، بلکہ اسکول میں ٹھہرنے کا ہے۔پرائمری میں داخلہ 68 فیصد ہوتا ہے، مگر مڈل اسکول تک آتے آتے یہ 40 فیصد رہ جاتا ہے، اور دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے صرف 30 فیصد بچے باقی بچتے ہیں۔ گویا ہر دس میں سے سات بچے راستے میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے وجوہات وہی پرانی ہیں جنہیں ہم برسوں سے دہراتے آ رہے ہیں: غربت، بچوں کی مزدوری، بڑھتی ہوئی غذائی قلت، اور لڑکیوں کے لیے گھریلو ذمہ داریاں اور کم عمری کی شادیاں۔ جب گھر کا چولہا نہ جلے تو کتاب اور قلم عیاشی بن جاتے ہیں۔اور اس سب کے پیچھے ایک اور کڑوی حقیقت چھپی ہےبحران جتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے، تعلیم پر خرچ اتنا ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں تعلیم پر جی ڈی پی کا بہت کم حصہ خرچ کرتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے اقدامات، جو نقد امداد کو اسکول حاضری سے مشروط کرتے ہیں، یقیناً قابل تحسین ہیں، اور ملک بھر میں پھیلے پینتیس ہزار سے زائد غیر رسمی تعلیمی مراکز لاکھوں بچوں کے لیے آخری سہارا بنے ہوئے ہیں۔مگر یہ سب پیوند ہیں، اس پھٹے ہوئے نظام کے لیے جس کی مرمت کے لیے پیوند نہیں بلکہ بنیادی تبدیلی درکار ہے۔امید کی کچھ کرنیں بھی موجود ہیں۔ دیہی خواتین کی خواندگی میں نسبتاً زیادہ بہتری آئی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر سرمایہ کاری درست سمت میں اور تسلسل کے ساتھ کی جائے تو نتائج ملتے ہیں۔ ڈیجیٹل رابطہ کاری بڑھ رہی ہے اور دور دراز علاقوں میں موبائل لرننگ جیسے حل آزمائے جا رہے ہیں۔ مگر خود وزیر منصوبہ بندی نے تسلیم کیا ہے کہ یہ رفتار اتنی سست ہے کہ معیشت پر کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ڈال سکتی۔سوال یہ نہیں کہ مسئلہ کیا ہے یہ تو پالیسی سازوں کو بخوبی معلوم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس نسل کو مزید کتنے سال گنوا سکتے ہیں؟ پاکستان کی بیشتر آبادی نوجوان پر مشتمل ہے، اور یہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ایک ایسی نسل جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتی، وہ سرمایہ نہیں بلکہ بوجھ بن جاتی ہے۔ جب تک اسکول کی ٹوٹی چھتیں دوبارہ تعمیر نہیں ہوتیں، اور جب تک تعلیم کو محض تقریروں کی بجائے بجٹ میں حقیقی جگہ نہیں ملتی، یہ “ایمرجنسی” ایک نعرہ ہی رہے گی اور اس کی قیمت وہ بچے چکائیں گے جنہیں ہم آج نظر انداز کر رہے ہیں۔
