عالیہ حمزہ لاہور میں اپنی فیملی سے ملاقات کیلئے آئی ہوئی تھیں کہ اسی دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا

لاہور (وائس آف ایشیا) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو صوبائی دارالحکومت لاہور سے گرفتار کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے عالیہ حمزہ کو لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا، عالیہ حمزہ لاہور میں اپنی فیملی سے ملاقات کیلئے آئی تھیں کہ اسی دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا، اس کارروائی کے دوران علاقے میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے، قریبی سڑکوں پر آمد و رفت بھی جزوی طور پر محدود کردی گئی تھی، گرفتاری کے بعد پہلے عالیہ حمزہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، بعد ازاں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا لیکن تاحال حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف نہیں دیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنماء سینیٹر عون عباس بپی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک کی گرفتاری واضح کر رہی ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستگی اب جرم بنا دی گئی ہے، ایک خاتون کو اس طرح نشانہ بنانا صرف سیاسی انتقام اور کھلا جبر ہے، ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ عالیہ حمزہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ کے صدرجنید اکبر کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی چیف آرگنائزر پنجاب، عالیہ حمزہ کو لاہور سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقلی انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے، سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی اس انتقامی کارروائی کی آخر حد کیا ہے؟ جبر سے آوازوں کو دبانے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے لیکن نظریئے کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

بتایا جارہا ہے کہ عالیہ حمزہ 9 مئی کے واقعات کے حوالے سے مختلف مقدمات میں سزا یافتہ ہیں، ان کیسز میں عدالتوں کی جانب سے انہیں ہر مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، ان مقدمات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور دیگر الزامات شامل ہیں۔