ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر سے ساؤتھ ایشین کالمسٹ کونسل کے وفد کی ملاقات
جدید ٹریفک اصلاحات، ڈیجیٹل سروسز اور عوامی سہولتوں کے فروغ پر بریفنگ، موبائل لائسنسنگ اور ای چالان نظام کو مزید مؤثر بنانے کا عزم
لاہور (نمائندہ خصوصی): ساؤتھ ایشین کالمسٹ کونسل (SACC) کے چیئرمین میاں سیف الرحمن کی قیادت میں اشرف سہیل، ضمیر آفاقی اور شیر علی خالطی پر مشتمل وفد نے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد کو ٹریفک ہیڈکوارٹرز پنجاب کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا گیا، جہاں جدید ٹریفک مینجمنٹ، لائسنسنگ نظام، روڈ سیفٹی، ڈیجیٹلائزیشن اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے بتایا کہ پنجاب ٹریفک پولیس جدید ٹیکنالوجی، شفافیت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے شہریوں کو معیاری اور آسان خدمات کی فراہمی کے لیے متعدد اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، تجاوزات کے خاتمے، شواہد پر مبنی ای چالان سسٹم، خواتین کی محفوظ اور خودمختار ڈرائیونگ کے فروغ، جدید لائسنسنگ مراکز اور جووینائل
ڈرائیونگ پرمٹ کی آگاہی مہم کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے پنجاب ٹریفک پولیس کی حالیہ کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران 3 لاکھ 37 ہزار سے زائد لرننگ لائسنس، 1 لاکھ 66 ہزار سے زائد ریگولر لائسنس اور 77 ہزار سے زائد رینیول لائسنس جاری کیے گئے۔ اسی عرصے میں موبائل پولیس اسٹیشنز کے ذریعے 9 ہزار سے زائد شہریوں جبکہ موبائل لائسنسنگ یونٹس کے ذریعے 7 ہزار سے زائد درخواست گزاروں کو ان کی دہلیز پر خدمات فراہم کی گئیں۔ لاہور سمیت پنجاب کے چھ بڑے شہروں میں فعال موبائل لائسنسنگ یونٹس شہریوں کو جدید اور آسان سہولیات مہیا کر رہے ہیں۔
محمد وقاص نذیر نے کہا کہ سال 2026 کے دوران پنجاب ٹریفک پولیس عوام کو مزید شفاف، جدید اور سہل لائسنسنگ خدمات فراہم کرنے، سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، روڈ سیفٹی کے فروغ اور قانون پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر ساؤتھ ایشین کالمسٹ کونسل کے وفد نے ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر کی قیادت میں ٹریفک پولیس کی اصلاحاتی پالیسی، ڈیجیٹل اقدامات اور عوام دوست خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مؤثر انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آ رہی ہیں، جبکہ ٹریفک نظام میں شفافیت، نظم و ضبط اور عوامی اعتماد بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مثبت اصلاحاتی اقدامات کو اجاگر کرنا قانون کی بالادستی، محفوظ ٹریفک کلچر اور ذمہ دار شہری رویوں کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
