یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں شاید ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے، اگرمعاہدہ نہ ہوا تو نیا حملہ ہوسکتا ہے
ایران کے پاس اب بھی جوابی کارروائی کی تھوڑی صلاحیت باقی ہے، ایران آبنائے ہرمز کو 47سالوں سے عسکری قوت کے طور پر استعمال کررہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو
اسلام آباد (وائس آف ایشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں شاید ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے، اگرمعاہدہ نہ ہوا تو نیا حملہ ہوسکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں شاید ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے۔
ایران ڈیل کرنے کیلئے بے تاب ہے، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کیوبا میں رجیم چینج کے بارے میں نہیں جانتااسے مدد کی ضرورت ہے، ایران پر نئے حملے شروع کرنے سے ایک گھنٹہ دور تھے، بحری جہاز میزائلوں سے لیس اور دیگر ہتھیار وہاں بھیجنے کیلئے تیار تھے۔ میرے خیال میں ملک کیلئے مذہب ضروری ہے اسے جرائم میں کمی آتی ہے۔
ایران کے پاس اب بھی جوابی کارروائی کی تھوڑی صلاحیت باقی ہے، ایران آبنائے ہرمز کو 47سالوں سے عسکری قوت کے طور پر استعمال کررہا ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں نیا امریکی حملہ ہوسکتا ہے۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران پر آج حملہ عرب ممالک کی درخواست پر روکا ہے، سعودی عرب، قطر اور یواے ای نے ایران پر حملہ نہ کرنے کی درخواست، جوہری معاہدے کے امکان پر طے حملہ مئوخر کردیا۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ موخر کرنے کا فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی درخواست کے ”احترام“ میں کیا گیا انہوں نے بتایا کہ خلیجی راہنماﺅں نے انہیں یقین دلایا کہ خطے کے استحکام اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایک نئے معاہدے تک پہنچنے کا حقیقی موقع موجود ہے. ٹرمپ نے کہاکہ ایران پر ہمارا حملہ منگل کے روز کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا لیکن اب ہم ایران پر حملہ نہیں کریں گے برخلاف اس کے جو پہلے طے کیا گیا تھا انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے راہنماﺅں نے واشنگٹن سے فوجی کارروائی موخر کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کے خیال میں ایک ایسا ”قابل قبول معاہدہ“ ممکن ہے جو امریکا اور پورے خطے کے مفاد میں ہو. امریکی صدر نے تصدیق کی کہ ایران کے حوالے سے اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور واشنگٹن جس معاہدے کا خواہاں ہے اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے ایران پر حملہ موخر کرنے کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہوں نے امریکی افواج کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی ”قابلِ قبول معاہدہ“ نہ ہو سکا تو ایران پر ”جامع حملے” کے لیے تیار رہیں۔
