واشنگٹن (وائس آف ایشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اُڑادیں، اس کارروائی کی رفتار تین گنا تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عالمی بحری راستے کو جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ بنایا جاسکے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی “مائن سویپرز” (بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز) پہلے ہی کام کر رہے ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اس کارروائی کی رفتار تین گنا تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ عالمی بحری راستے کو جتنی جلدی ممکن ہو محفوظ بنایا جاسکے۔

میں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی کشتی کو چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو اسی وقت تباہ کر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔

اس سے قبل ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے دو کنٹینر جہازوں کی ضبطی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے کیونکہ یہ جہاز نہ تو امریکی تھے اور نہ ہی ان کا تعلق اسرائیل سے تھا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کے دوران ان سے سوال ہوا کہ ’کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے جہازوں کو ضبط کرنا اس جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، جس کے تحت ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں معطل تھیں؟‘ کیرولین لیویٹ نے جواب دیا کہ ’یہ ایرانی اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کیونکہ یہ امریکی یا اسرائیلی بحری جہاز نہیں بلکہ دوبین الاقوامی جہاز تھے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی امن تجویز کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن تجویز پیش کرنے کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا، صدر نے ایرانی تجویز موصول ہونے کے لیے کوئی واضح ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی، اس حوالے سے خبریں درست نہیں ہے، بالآخر ٹائم لائن کا تعین کمانڈر اِن چیف ہی کریں گے۔