دنیا بھرکے لوگ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں : ندیم ارشدبھٹی

جنگوں کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں انسان بھوک، افلاس اور بیماریوں میں مبتلا ہیں
اقوام متحدہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگیں ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے:تقریب سے خطاب
لاہور( نمائندہ خصوصی )نوجوان سیاسی وسماجی رہنما محب وطن اوورسیز پاکستانی بزنس مین ندیم ارشدبھٹی نے کہا ہے کہ پوری دنیا کے لوگ جنگ نہیں بلکہ امن کے چاہتے ہیں ،جنگوں میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، لیکن عالمی طاقتوں نے ابھی تک جنگ کی تباہی سے سبق نہیں سیکھا ہے، دنیا بھر کے ممالک میں امن پسند لوگ جنگوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لہٰذا اقوام متحدہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگوں اور فلسطینی عوام کو اسرائیل کے ظلم سے بچانے کیلئے عملی اقدامات کرے۔ان خیالات کا اظہار منڈی بہاﺅالدین سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ میں مقیم محب وطن نوجوان اوورسیز پاکستانی بزنس مین ندیم ارشد بھٹی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نوجوان سیاسی وسماجی رہنما محب وطن اوورسیز پاکستانی ندیم ارشدبھٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے مختلف فورمز پر نرم لہجے، سفارتی جملے اور انسانی حقوق کے دعوے تو سنائی دیتے ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کیلئے ہر حد عبور کرنے کو تیار ہیں، روس اور یوکرین جنگ ، اسرائیل کا غزہ کو کھنڈر بنانا ، لبنان کی شہری آبادیپر بمباری ، امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا اور پھر اس کے جواب میں ایران کا اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ افراد ہلاک اور شدید زخمی ہونے کی وجہ سے معذور ہو چکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ کھربوں ڈالرز کا نقصان بھی ہو چکا ہے ۔منڈی بہاﺅالدین سے تعلق رکھنے والے انگلینڈ میں مقیم نوجوان سیاسی وسماجی رہنما اوورسیز پاکستانی بزنس مین ندیم ارشد بھٹی نے کہا کہ تلخ حقیقت کہ جنگوں میں نہ صرف بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے بلکہ سکول کالج، فیکٹریاں، کارخانے، ایئر پورٹس، ڈیمز، سڑکیں اور دیگر انفرا اسٹرکچر کے ساتھ ثقافتی ورثہ اور آثار قدیمہ کے اہم ترین تاریخی مقامات بھی تباہ کیے جاتے ہیں،جنگوں کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں انسان بھوک، افلاس اور بیماریوں میں مبتلا ہیں،جنگوں میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، لیکن عالمی طاقتوں نے ابھی تک جنگ کی تباہی سے سبق نہیں سیکھا ہے اور سالانہ کھربوں ڈالر جنگی سازو سامان اور خطرناک ترین ہتھیار بنانے میں خرچ کرتے ہیں اور تمام حقائق کو جاننے کے باوجود انسانیت کی تباہی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے ترقی یافتہ ممالک ہی پسماندہ اقوام کے انسانی حقوق غصب کر رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top