لودھراں پارلر کیس کی وہ اندرونی کہانی جس نے سب کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں ۔
جس پھوپھی زاد کو بھائی سمجھ کر گھر کے کام سونپے ، وہی عین شادی کے دن ’اپنی کزن کا قاتل‘ بن کر سامنے آ گیا ،
لودھراں پارلر کیس کی وہ اندرونی کہانی جس نے سب کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں ۔
اکیس سالہ سدرہ کی شادی ستائیس سالہ نعیم سے طے تھی اور گھر میں شہنائیوں کا شور تھا ، اس کے باپ کے لیے سب سے بڑا سہارا اس کا بھانجا مدثر تھا ، جسے اس نے بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے اپنی اولاد کی طرح پالا اور عزیز رکھا۔ مدثر بھی مہندی اور دیگر تمام رسومات میں یوں پیش پیش رہا کہ کسی کو شک تک نہ ہوا کہ اس کے دماغ میں کیا ہولناک منصوبہ چل رہا ہے ۔
شادی والے دن جب سدرہ پارلر میں اپنی آنکھوں نئی زندگی کے خواب سجائے تیار ہو رہی تھی ، مدثر نے کمالِ ہوشیاری سے اپنے ماموں (دلہن کے والد) کو ساتھ لیا اور شہر سے پھول لینے چلنے کا کہا ۔ کون جانتا تھا کہ جو پھول وہ لینے جا رہا ہے ، وہ بیٹی کی بارات پر نہیں بلکہ جنازے پر پڑیں گے ۔ شہر پہنچ کر اس نے ماموں کو کسی بہانے سے چھوڑا اور سیدھا اس پارلر پہنچا جہاں سدرہ موجود تھی ۔ وہاں اس نے نہ صرف اپنے ماموں کا مان توڑا بلکہ اپنی سگی بہن جیسی کزن پر وہ وار کیے جس نے پورے خاندان کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے مٹی میں ملا دیں ۔ گھر والے آج بھی صدمے میں ہیں کہ جس لڑکے کو انہوں نے بیٹا سمجھا ، اس کے دل میں ایسا جنون چھپا تھا جس کا اس نے کبھی اظہار تک نہ کیا تھا ؟ پولیس اب سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کر رہی ہے ، مگر یہ واقعہ ایک کڑوا سوال چھوڑ گیا ہے کہ کیا واقعی ہم اپنے گرد موجود ’اپنوں‘ کے اصلی چہروں کو پہچان پاتے ہیں؟

589
32
37
<img class=”x16dsc37″ role=”presentation” src=”data:;base64, ” width=”18″ height=”18″ />
<img class=”x16dsc37″ role=”presentation” src=”data:;base64, ” width=”18″ height=”18″ />



تبصرہ کریں