متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ بہت اچھا ہے
واشنگٹن (وائس آف ایشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ایران کی مدد کرنا چاہتے ہیں ، وہ نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے، ایران جانتا ہے وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور باقی ملک بھی ،ایران کو اب ہار ماننا ہوگی، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری ہے، متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی خلابازوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی صدر پیوٹن کے ساتھ آج گفتگو بہت اچھی رہی، روسی صدر کے ساتھ یوکرین اور ایران کے بارے بات کی۔یوکرین میں جزوی جنگ بندی کی تجویز دی تھی، ایران اوریوکرین کی جنگیں ایک ہی ٹائم ٹیبل پر ختم ہوسکتی ہیں۔ روسی صدر پیوٹن ایران کی مدد کرنا چاہتے ہیں ، پیوٹن نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔
پیوٹن نے مجھے بتایا کہ وہ ایران کی یورینیم افزدوگی کے معاملے پر فکر مند ہیں ۔ پیوٹن سے کہا ہماری جنگ ختم ہونے سے پہلے تمہیں جنگ ختم کرنی ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس میزائل بنانے کی صلاحیت کم رہ گئی ہے، ایران کے 82فیصد میزائل تباہ کردیئے ہیں۔ایران کی معیشت تباہ ہورہی ہے، ایرانی کرنسی کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ ایران جنگ میں تقریبا اپنے مقاصد حاصل کرچکے ہیں۔
ہم ایران کی فضائیہ کو تباہ کرچکے ہیں۔ایران جانتا ہے وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور باقی ملک بھی جانتے ہیں۔ایران کو اب ہار ماننا ہوگی۔ایران کی بحری ناکہ بندی زبردست طریقے سے جاری ہے، امریکا کے پاس دنیا کی بہترین افواج ہے، ہم دوبارہ 18گھنٹے کا بلامقصد سفر نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے صحافی کے سوال”یواے ای اوپیک سے نکل گیا، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“ کے جواب میں کہاکہ متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنا بہت اچھا فیصلہ ہے،یواے ای کے فیصلے سے تیل اور گیس کی قیمتیں نیچے آسکتی ہیں، یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔



تبصرہ کریں