مہنگائی غریبوں کی خوشیاں کھا گئی ہے،حانیہ خان المعروف وسیب زادی

مہنگائی غریبوں کی خوشیاں کھا گئی ہے،حانیہ خان المعروف وسیب زادی

مہنگائی غریبوں کی خوشیاں کھا گئی ہے۔ وسیب کے سادگی پسند لوگ آج بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔ اس بار بھی عید قربان پر وسیب کا غریب اپنے ارمان کو قربان کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکی رہنما حانیہ خان المعروف وسیب زادی نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے بے رحم طوفان نے غریب کی عید کی خوشیوں کو یکسر جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ عید قربان جیسے مقدس اور خوشیوں بھرے تہوار پر وسیب کے غریب عوام کے پاس قربانی کے لیے کچھ باقی نہیں بچا، کیونکہ ان کا سب کچھ وقت کے ظالم حکمرانوں نے لوٹ کر کھا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے اور دوسری طرف حکمران عوام کے خون پسینے کی کمائی پر عیش و عشرت میں مگن ہیں۔ سرائیکی وسیب کے غیور عوام بھوک، پیاس اور بیروزگاری کی چکی میں اس قدر پس چکے ہیں کہ اب وہ شدید ذہنی مریض بننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں، مائیں اپنے بچوں کے خالی پیٹ دیکھ کر آنسو بہا رہی ہیں، لیکن ان سسکتی ہوئی زندگیوں پر رحم کھانے والا کوئی نہیں ہے۔ وسیب کے سادگی پسند لوگ آج بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف وسیب کا بچہ بچہ غربت کی دلدل میں ڈوب رہا ہے، دوسری طرف بے حس حکمران غیر ملکی دوروں میں مصروف ہیں اور نئی لگژری گاڑیاں اور نئے جہاز خریدنے کے شوق پورے کر رہے ہیں۔ سرائیکی خطے کے وسائل کو بیدردی سے لوٹ کر حکمرانوں کے شاہانہ طرز زندگی پر اڑایا جا رہا ہے، جبکہ وسیب کا مزدور اور کسان خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔سفید پوش طبقہ اپنی غیرت اور خودداری کے ہاتھوں مجبور ہو کر اندر ہی اندر گھٹ رہا ہے، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نمائندوں کے کانوں تک ان مظلوموں کی چیخیں نہیں پہنچ رہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وسیب کا بچہ بچہ اپنی دھرتی کے حقوق اور نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے بیدار ہو جائے۔ وسیب زادی نے کہا کہ سرائیکی وسیب کے قدرتی اور زرعی وسائل کو اب مزید لوٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سرائیکی وسیب میں حقیقی عید اور خوشی کا دن صرف اسی روز آئے گا جس دن غصب شدہ حقوق بحال ہوں گے اور جغرافیائی و انتظامی بنیادوں پر صوبہ سرائیکستان کا قیام عمل میں آئے گا۔ جب تک الگ صوبہ نہیں بنتا، وسیب کے عوام کے ساتھ ہونے والی یہ ناانصافیاں اور معاشی قتل عام بند نہیں ہو سکتا اور ہم اس حق کی خاطر آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top