باجوڑ ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ ایک اور جنازہ اٹھا، ایک اور گھر میں کہرام مچا، ایک اور ماں نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی، اور ایک بار پھر پورا علاقہ خوف، غم اور بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا۔ مگر اس بار صرف آنکھوں میں آنسو نہیں تھے بلکہ دلوں میں ایک ایسا درد بھی تھا جو چیخ بن کر باہر نکل آیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ویڈیو میں ایک نوجوان انتہائی غم اور غصے کی کیفیت میں بات کر رہا تھا۔ اس کی آواز میں درد بھی تھا، تھکن بھی تھی اور ایک ایسا کرب بھی تھا جو شاید صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے بار بار اپنے ہی لوگوں کی لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائی ہوں۔
وہ نوجوان کہہ رہا تھا کہ یہ پچہترویں لاش ہے جسے وہ غسل دے رہا ہے۔ اس ایک جملے نے ہر سننے والے کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر ایک انسان کس حد تک ٹوٹ جاتا ہے جب وہ اتنی بڑی تعداد میں اپنے لوگوں کے جنازے دیکھ چکا ہو۔
باجوڑ اور قبائلی علاقوں کے لوگوں نے دہائیوں سے بدامنی، دہشت گردی، دھماکوں اور خونریزی کا سامنا کیا ہے۔ یہاں کے عوام نے شاید اتنے جنازے دیکھے ہیں جتنے کسی اور خطے کے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہر کچھ عرصے بعد ایک نیا سانحہ، ایک نئی خبر اور ایک نئی لاش سامنے آ جاتی ہے۔
اس نوجوان کی گفتگو دراصل صرف ایک فرد کی آواز نہیں بلکہ پورے علاقے کے دل کی آواز تھی۔ وہ سوال پوچھ رہا تھا کہ آخر یہ سب کب تک چلے گا۔ آخر کون سے منصوبے بن رہے ہیں جن کی قیمت عام لوگ اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔
اس نے ڈی پی او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آخر یہ پلان کون بنا رہا ہے اور عوام کو کیوں مروایا جا رہا ہے۔ یہ الفاظ غصے میں ضرور کہے گئے مگر ان کے پیچھے برسوں کی محرومی، خوف اور مسلسل خونریزی کا دکھ چھپا ہوا تھا۔
جب کسی معاشرے میں لوگ اپنے تحفظ کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جائیں تو وہاں سوالات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بچے محفوظ کیوں نہیں، ان کے بازار محفوظ کیوں نہیں اور ان کی مساجد اور گلیاں مسلسل خوف کے سائے میں کیوں رہتی ہیں۔
اس نوجوان نے عوام کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ اگر لوگ خاموش رہے تو سب کو قتل کر دیا جائے گا۔ اس کی باتوں میں تلخی ضرور تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلسل لاشیں دیکھنے والا انسان آخر کب تک خاموش رہ سکتا ہے۔
یہ صرف باجوڑ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ جب کسی علاقے کے نوجوان اس حد تک مایوس ہو جائیں کہ انہیں اپنی زندگی اور مستقبل تاریک دکھائی دینے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں صرف سیکیورٹی نہیں بلکہ اعتماد کا بحران بھی پیدا ہو چکا ہے۔
باجوڑ کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے محبت کی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے گھروں، بازاروں اور سکولوں تک نے اس جنگ کی قیمت ادا کی ہے۔ مگر اس کے باوجود آج بھی وہی علاقے بدامنی کی خبروں میں نظر آتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ قبائلی علاقوں کے لوگوں نے وہ دکھ جھیلے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ کئی خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک نہیں بلکہ متعدد افراد کو کھویا۔ کئی بچے یتیم ہوئے، کئی عورتیں بیوہ ہوئیں اور کئی گھر ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔
سوشل میڈیا پر اس نوجوان کی ویڈیو دیکھنے والوں کی بڑی تعداد نے اس کے جذبات کی حمایت کی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان دراصل وہی بات کر رہا ہے جو پورا علاقہ محسوس کر رہا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ خاموش رہتے ہیں جبکہ اس نے اپنے دل کی بات زبان پر لے آئی۔
کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتی ہے۔ جب عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو صرف بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
قبائلی علاقوں کے لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں بھی اسی طرح کا امن اور تحفظ ملے جیسا ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے شہریوں کو حاصل ہے۔ ان کی زندگیاں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں جتنی کسی بڑے شہر میں رہنے والے فرد کی زندگی۔
بدقسمتی سے جب بھی کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو چند دن شور مچتا ہے، بیانات آتے ہیں، مذمتیں ہوتی ہیں اور پھر سب خاموش ہو جاتا ہے۔ مگر ان علاقوں کے لوگوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے کیونکہ اگلے حادثے کا خوف ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا ہے۔
اس نوجوان کی چیخ دراصل اس نسل کی چیخ ہے جو مسلسل خوف میں پروان چڑھ رہی ہے۔ وہ نسل جو سکول جاتے ہوئے بھی دھماکوں سے ڈرتی ہے، بازار جاتے ہوئے بھی خوفزدہ رہتی ہے اور ہر غیر معمولی آواز پر چونک اٹھتی ہے۔
یہ وقت الزام تراشی یا خاموشی کا نہیں بلکہ سنجیدگی سے مسائل کو حل کرنے کا ہے۔ اگر عوام کے دلوں میں اعتماد بحال نہ کیا گیا تو مایوسی مزید بڑھتی جائے گی اور یہ مایوسی کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ صرف سیکیورٹی کے بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کے سوالات کو سنیں، ان کے خدشات کو سمجھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی جانیں واقعی اہم ہیں۔
باجوڑ کے نوجوانوں کو نفرت یا انتقام نہیں چاہیے بلکہ امن چاہیے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے میں جنازوں کی جگہ زندگی کی بات ہو، خوف کی جگہ امید ہو اور خون کی جگہ خوشحالی ہو۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ مسلسل بدامنی صرف جسموں کو نہیں بلکہ ذہنوں کو بھی زخمی کرتی ہے۔ جب ایک نوجوان بار بار اپنے لوگوں کی لاشیں غسل دے تو اس کے اندر غصہ، بے بسی اور مایوسی پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ایسے نوجوانوں کی آواز کو صرف جذباتی ردعمل سمجھ کر نظر انداز نہ کرے بلکہ ان کے درد کو سمجھے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک چیخ پورے معاشرے کی حقیقت بیان کر دیتی ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے صرف سرحدی پٹی نہیں بلکہ اس ملک کا اہم حصہ ہیں۔ وہاں کے لوگ بھی اسی وطن کے شہری ہیں اور ان کا امن، سکون اور مستقبل بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی اور شہر کے لوگوں کا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ باجوڑ اور دیگر متاثرہ علاقوں کے عوام کو صرف قربانیوں کی علامت بنا کر نہ چھوڑا جائے بلکہ انہیں حقیقی امن، تحفظ اور اعتماد دیا جائے۔ کیونکہ کوئی بھی قوم مسلسل جنازوں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتی۔
