برطانیہ کے قومی صحت کے نظام این ایچ ایس کو ایک مرتبہ پھر سنگین سائبر سکیورٹی چیلنج کا سامنا

برطانیہ کے قومی صحت کے نظام این ایچ ایس کو ایک مرتبہ پھر سنگین سائبر سکیورٹی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 2024 میں ہونے والے ایک بڑے سائبر حملے کے اثرات اب بھی سامنے آ رہے ہیں، اور تازہ انکشافات نے ہزاروں مریضوں کی ذاتی اور طبی معلومات کے تحفظ کے بارے میں شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اس واقعے کو حالیہ برسوں میں برطانوی صحت کے شعبے پر ہونے والے اہم ترین سائبر حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
مڈ اینڈ ساؤتھ ایسیکس این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ (MSE) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس ڈیٹا چوری کے واقعے میں کم از کم 2,380 مریضوں کے ریکارڈ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ ادارہ برطانیہ کے بڑے ہسپتال ٹرسٹس میں شمار ہوتا ہے اور بروم فیلڈ، بیسلڈن اور ساؤتھ اینڈ جیسے اہم ہسپتالوں کی انتظامیہ سنبھالتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج اور تشخیصی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق چوری شدہ معلومات ایک نجی تشخیصی کمپنی “سینووس” (Synnovis) کے کمپیوٹر سسٹمز سے حاصل کی گئیں۔ یہ کمپنی این ایچ ایس کے مختلف ہسپتالوں کو لیبارٹری اور تشخیصی خدمات فراہم کرتی ہے اور خون، پیشاب، بافتوں اور دیگر طبی نمونوں کے تجزیے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
سائبر حملہ آوروں نے کمپنی کے بعض کمپیوٹر ڈرائیوز تک غیر قانونی رسائی حاصل کی اور وہاں محفوظ حساس معلومات کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں یہ معلومات ڈارک ویب پر بھی منظر عام پر آئیں، جس سے مریضوں کی رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا۔
مڈ اینڈ ساؤتھ ایسیکس این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کو اس ڈیٹا چوری کے بارے میں دسمبر میں باضابطہ اطلاع دی گئی تھی۔ اطلاع موصول ہونے کے بعد ادارے نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینے، متاثرہ ریکارڈز کی نشاندہی کرنے اور ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے ایک جامع تحقیقاتی عمل شروع کر دیا تھا۔
ٹرسٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی مکمل شناخت ایک پیچیدہ اور وقت طلب عمل ہے، کیونکہ بعض ریکارڈز مختلف طبی خدمات سے منسلک ہیں۔ تاہم ادارہ اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ جیسے ہی متاثرہ مریضوں کی درست شناخت مکمل ہوگی، انہیں براہ راست مطلع کیا جائے گا۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مڈ اینڈ ساؤتھ ایسیکس این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ اس واقعے سے متاثر ہونے والا واحد ادارہ نہیں ہے۔ این ایچ ایس کے متعدد دیگر ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کے مریضوں کا حساس ڈیٹا بھی اسی سائبر حملے کے دوران چوری کیا گیا، جس نے اس واقعے کی وسعت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے بیڈفورڈ شائر ہاسپٹلز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے بھی انکشاف کیا تھا کہ اس کے تقریباً 33 ہزار مریضوں کی معلومات اسی حملے کے دوران مجرموں کے ہاتھ لگ گئی تھیں۔ اس اعلان کے بعد برطانوی عوام میں صحت کے اداروں کی سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
سینووس کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے حاصل کی گئی معلومات بعد ازاں ڈارک ویب پر شائع کر دی گئیں۔ ڈارک ویب انٹرنیٹ کا وہ حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں غیر قانونی سرگرمیوں، خفیہ لین دین اور چوری شدہ معلومات کی خرید و فروخت کے واقعات عام طور پر دیکھے جاتے ہیں۔
کمپنی نے اگرچہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اب تک کوئی ایسا واضح ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ مریضوں کی معلومات کو براہ راست مالی دھوکہ دہی یا کسی دوسری مجرمانہ سرگرمی میں استعمال کیا گیا ہو، تاہم خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
سینووس کے چیف ایگزیکٹو مارک ڈالر نے متاثرہ اداروں اور مریضوں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی اس واقعے کے ہر پہلو کی تحقیقات میں مصروف ہے اور متعلقہ اداروں کو مسلسل معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مارک ڈالر کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں نے بڑی مقدار میں معلومات جلد بازی اور بے ترتیب انداز میں حاصل کیں۔ اسی وجہ سے مختلف اقسام کے ریکارڈز متاثر ہوئے اور مکمل صورتحال کا جائزہ لینے میں خاصا وقت درکار ہوا۔
یہ حملہ پہلی مرتبہ جون 2024 میں منظر عام پر آیا تھا، جب لندن کے کئی بڑے ہسپتالوں میں لیبارٹری خدمات اور آئی ٹی نظام شدید متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت صحت کے نظام کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور متعدد خدمات عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔
سائبر حملے کے نتیجے میں ہزاروں طبی ٹیسٹوں میں تاخیر ہوئی جبکہ متعدد مریضوں کے علاج اور آپریشنز کے شیڈول بھی متاثر ہوئے۔ بعض ہسپتالوں کو ہنگامی بنیادوں پر متبادل انتظامات کرنا پڑے تاکہ ضروری طبی خدمات جاری رکھی جا سکیں۔
تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حملے کی ذمہ داری روس میں قائم سائبر جرائم پیشہ گروپ “قیلن” (Qilin) نے قبول کی تھی۔ یہ گروپ بین الاقوامی سطح پر رینسم ویئر اور ڈیٹا چوری کی کارروائیوں کے حوالے سے بدنام شہرت رکھتا ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیلن دنیا کے خطرناک ترین ہیکنگ نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ گروپ اکثر ایسے اداروں کو نشانہ بناتا ہے جہاں حساس معلومات کی بڑی مقدار موجود ہو اور جہاں خدمات کی بندش سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہو۔
سینووس کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق چوری شدہ ڈیٹا میں مریضوں کے نام، تاریخ پیدائش، این ایچ ایس نمبر، مریض شناختی نمبر، پوسٹ کوڈز اور مختلف لیبارٹری ٹیسٹوں کے نتائج شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ معلومات انتہائی حساس نوعیت کی تصور کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق طبی ریکارڈز کا افشا ہونا صرف رازداری کا مسئلہ نہیں بلکہ شناختی چوری، آن لائن دھوکہ دہی اور دیگر سائبر جرائم کے خطرات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے صحت کے شعبے میں ڈیٹا کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
اگرچہ مڈ اینڈ ساؤتھ ایسیکس این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے اپنے بنیادی آئی ٹی سسٹمز براہ راست اس حملے کا نشانہ نہیں بنے، تاہم ادارے نے صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور حفاظتی اقدامات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
ٹرسٹ کے حالیہ بورڈ اجلاس میں بتایا گیا کہ سائبر سکیورٹی کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے تاکہ موجودہ نظاموں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے اور ممکنہ کمزوریوں کو دور کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں۔
ٹرسٹ کی ڈپٹی چیف ایگزیکٹو ڈان سکرافیلڈ نے بتایا کہ متاثرہ ریکارڈز بنیادی طور پر مخصوص اور خصوصی تشخیصی ٹیسٹوں سے متعلق تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ڈیٹا سیٹس میں مریضوں کی شناخت فوری طور پر واضح نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے تصدیقی عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہرین مسلسل اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کون سے مریض براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف ریکارڈز کا باہمی موازنہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی متاثرہ فرد کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
ڈان سکرافیلڈ نے یقین دلایا کہ تمام متاثرہ مریضوں سے براہ راست رابطہ کیا جائے گا اور انہیں ضروری معلومات، رہنمائی اور معاونت فراہم کی جائے گی۔ ان کے مطابق مریضوں کی رازداری اور اعتماد کا تحفظ ادارے کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ واقعہ جدید دور میں سائبر خطرات کی سنگینی کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ جیسے جیسے صحت کے ادارے ڈیجیٹل نظاموں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں، ویسے ویسے حساس معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید اور مضبوط سائبر سکیورٹی اقدامات کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں ایسے حملوں سے بچنے کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی ہی کافی نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، عملے کی تربیت، بروقت خطرات کی نشاندہی اور سخت حفاظتی پالیسیوں کا نفاذ بھی ناگزیر ہے۔ برطانیہ میں پیش آنے والا یہ واقعہ دنیا بھر کے صحت کے اداروں کے لیے ایک اہم تنبیہ اور سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top