جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد، عدالت کا انمول پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد، عدالت کا انمول پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم
تفتیشی افسر نے 14 روز میں چالان طلب، پراسیکویشن کا جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کا فیصلے چیلنج کرنے کا فیصلہ
کراچی (وائس آف ایشیا) ملیر کورٹ میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف سچل تھانے میں درج کیس کی سماعت میں عدالت نے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ 14 روز کے اندر مقدمے کا چالان پیش کیا جائے۔ سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے فیصلے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ سے مزید ریمانڈ درکار ہے۔
پراسیکیوشن نے جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیس میں مزید کارروائی آئندہ سماعت پر ہوگی۔ عدالت نے ریکارڈ طلب کر کے سماعت ملتوی کر دی۔ دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کا شناختی کارڈ بلاک ہے اور اس کی نشاندہی پر رائیڈرز کی گرفتاری عمل میں لانا ہے۔
افسر کے مطابق مبینہ گینگ میں غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں جبکہ ملزمہ کا چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک لاش بھی ملی ہے، جس کے موبائل فون سے ملزمہ کا نمبر ملا ہے، جبکہ کروڑوں روپے کی مالی ٹرانزیکشنز کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیس میں موجود جو بندہ مر گیاہے اس کا کیاہے، تفتیشی افسر نے کہا کہ ابھی تک نامعلوم ہے، فنگر پرنٹس بھیجے ہوئے ہیں،ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ 15 مئی کو ملزمہ کو پیش کرنا تھا، 16 مئی کی صبح پیش کیا گیا ،تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں تین دن کا لکھا ہواہے، عدالت نے کہا کہ تین دن کا ریمانڈ واضح تھا میرے حساب سے ٹھیک پیش کیاہے، اگر پی کو پیش کرتے تو شوکاز ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top