خیرات سے آگے: خود کفالت کا فروغ تحریر :سجاد علی شاکر ،لاہور

خیرات سے آگے: خود کفالت کا فروغ
تحریر :سجاد علی شاکر ،لاہور
دنیا کی کامیاب ریاستیں اپنے شہریوں کو ہاتھ پھیلانا نہیں سکھاتیں بلکہ انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ اور وساءل فراہم کرتی ہیں۔ ریاست کی اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ وہ کتنے ارب روپے امدادی پیکجوں کی صورت میں تقسیم کرتی ہے، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے خاندان ایسے بن جاتے ہیں جنہیں دوبارہ کسی امداد کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں غربت کے خاتمے کے بجاءے اکثر اس کے وقتی علاج پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ غربت کی اصل وجوہات آج بھی جوں کی توں موجود ہیں۔گزشتہ کءی برسوں سے مختلف حکومتیں سماجی تحفظ کے نام پر متعدد پروگرام چلا رہی ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، رمضان پیکجز، مفت راشن اسکیمیں، نقد امداد اور دیگر فلاحی منصوبوں پر ہر سال اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں نے یقیناً بہت سے مستحق خاندانوں کو وقتی سہارا دیا ہے اور ایسے گھرانے بھی ہیں جن کے لیے یہ امداد ایک مشکل وقت میں مددگار ثابت ہوءی۔ مگر بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ان اربوں روپے سے غربت کم ہوءی؟ کیا بے روزگاری میں نمایاں کمی آءی؟ کیا غریب خاندان خود کفیل ہوءے؟ اگر ان سوالات کا جواب مکمل طور پر اثبات میں نہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی۔اصل ضرورت یہ ہے کہ امدادی پروگراموں کو مستقل انحصار کا ذریعہ بنانے کے بجاءے انہیں خود کفالت کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنایا جاءے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جاءے جس میں امداد کے ساتھ ہنر، روزگار، کاروباری تربیت، آسان قرضے اور مستقل آمدنی کے مواقع بھی فراہم کیے جاءیں۔ اگر ایک غریب عورت کو ہر ماہ چند ہزار روپے دینے کے بجاءے اسے سلاءی، دستکاری، فوڈ پروسیسنگ یا کسی اور شعبے میں تربیت، مشین اور مارکیٹ تک رساءی دے دی جاءے تو وہ برسوں تک اپنے خاندان کی کفالت کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے امدادی رقوم کے حصول کا موجودہ طریقہ کار بھی کءی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے بارہا ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ مستحق خواتین کو اپنی امداد کے حصول کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے، شدید گرمی میں دھکے کھانے پڑتے ہیں، مختلف دفاتر اور مراکز کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور بعض اوقات انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک باوقار معاشرے میں یہ صورتحال قابلِ افسوس ہے۔ اگر ریاست کسی شہری کی مدد کر رہی ہے تو اس مدد کے ساتھ اس کی عزتِ نفس کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ امداد کا نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں شفافیت بھی ہو، آسانی بھی ہو اور مستحق افراد کی عزت بھی محفوظ رہے۔اسی طرح یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امدادی پروگراموں کے بارے میں شفافیت، مستحقین کے انتخاب اور انتظامی بے ضابطگیوں سے متعلق سوالات وقتاً فوقتاً اٹھتے رہے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہر روپے کا حساب عوام کے سامنے رکھا جاءے، نگرانی کے مؤثر نظام قاءم کیے جاءیں اور اگر کہیں بدعنوانی یا بے ضابطگی ثابت ہو تو بلاامتیاز کاررواءی کی جاءے۔ عوام کا پیسہ عوام کی فلاح پر ہی خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی کمزوریوں کی نذر ہو۔غربت کا سب سے مؤثر علاج روزگار ہے۔ ایک نوجوان کو ملازمت مل جاءے تو وہ صرف اپنا نہیں بلکہ پورے خاندان کا سہارا بن جاتا ہے۔ ایک چھوٹا کاروبار شروع کرنے والے شخص کو آسان قرض، سستی بجلی اور مناسب ماحول فراہم کر دیا جاءے تو وہ کءی مزید افراد کو روزگار دے سکتا ہے۔ یہی وہ معاشی زنجیر ہے جو ایک فرد سے شروع ہو کر پوری معیشت کو مضبوط کرتی ہے۔آج پاکستان کا سب سے بڑا مسءلہ صرف غربت نہیں بلکہ مہنگاءی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوءے پیداواری اخراجات بھی ہیں۔ بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں نے چھوٹے کاروباروں، ورکشاپوں، دکانوں اور گھریلو صنعتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایک غریب مزدور جب اپنی آدھی آمدن بجلی کے بل میں ادا کر دیتا ہے تو اس کے بچوں کی تعلیم، علاج اور خوراک متاثر ہوتی ہے۔ اگر حکومت واقعی غربت کم کرنا چاہتی ہے تو کم آمدنی والے گھرانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے سستی بجلی، کم شرح سود پر قرض، ٹیکس میں آسانی اور کاروبار دوست پالیسیاں ناگزیر ہیں۔زراعت، صنعت اور چھوٹے کاروبار پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر کسان کو مناسب قیمت، صنعت کار کو سستی تواناءی اور نوجوان کو ہنر اور سرمایہ مل جاءے تو ملک کے لاکھوں افراد کو سرکاری امداد کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔ ترقی یافتہ ممالک نے بھی اپنے عوام کو مستقل خیرات دے کر نہیں بلکہ انہیں معاشی مواقع فراہم کرکے خوشحال بنایا ہے۔یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ امدادی پروگراموں کو روزگار سے مشروط کیا جاءے۔ مثال کے طور پر جو خاندان امداد حاصل کر رہے ہیں، ان کے نوجوانوں کو فنی تربیت دی جاءے، خواتین کو گھریلو صنعتوں سے جوڑا جاءے، چھوٹے کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کیا جاءے اور ایک مخصوص مدت کے بعد انہیں امداد لینے والوں کی فہرست سے نکال کر ٹیکس دینے والوں اور روزگار پیدا کرنے والوں کی صف میں شامل کیا جاءے۔ یہی ایک کامیاب فلاحی ریاست کا تصور ہے۔پاکستان کے غریب کو خیرات نہیں، موقع چاہیے۔ اسے راشن کی قطار میں کھڑا ہونے کے بجاءے اپنی دکان کھولنے کا موقع چاہیے۔ اسے امدادی کیمپ کے باہر انتظار نہیں بلکہ اپنی محنت کی کماءی سے گھر چلانے کا حق چاہیے۔ اسے ہر چند ماہ بعد ایک پیکج نہیں بلکہ مستقل روزگار چاہیے۔ اسے سستی بجلی، معیاری تعلیم، بہتر صحت اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول چاہیے۔ریاست کی عظمت اس میں نہیں کہ اس کے خزانے سے کتنی امداد تقسیم ہوءی، بلکہ اس میں ہے کہ کتنے شہری باعزت روزگار حاصل کرکے خود کفیل بنے۔ جس دن پاکستان کا غریب اپنے بچوں کو یہ کہہ سکے کہ “یہ روٹی میری محنت کی کماءی سے آءی ہے، کسی امدادی قطار سے نہیں”، اسی دن ہم حقیقی معنوں میں ایک مضبوط، باوقار اور فلاحی ریاست کی جانب سفر شروع کر چکے ہوں گے۔ کیونکہ قومیں خیرات سے نہیں، خود کفالت، محنت، انصاف اور مواقع کی برابری سے ترقی کرتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top