واشنگٹن (وائس آف ایشیا) امریکی صدر نے مذاکراتی ٹیم کو پاکستان روانہ ہونے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ اسلام آباد منسوخی کا مطلب جنگ نہیں ہے، ابھی ہم نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا، ایرانی قیادت میں شدید اختلافات اور بے چینی پائی جاتی ہے، ایرانیوں کو خود نہیں معلوم ان کا لیڈر کون ہے۔ تفصیلات کے مطابق فاکس نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مذاکراتی وفد کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا ہے۔
امریکی وفد سے ملاقات کے بغیر ہی ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد سے عمان روانہ ہو جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی وفد 18 گھنٹے سفر کر کے بے مقصد باتوں کیلئے وہاں جا کر نہیں بیٹھے گا، ایرانی جب چاہیں فون پر رابطہ کر سکتے ہیں، ایران کے ساتھ تنازعے میں تمام برتری امریکا کے پاس ہے، تمام کارڈز ہمارے ہاتھ میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ دورہ اسلام آباد منسوخی کا مطلب جنگ نہیں ہے، ابھی ہم نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا، ایرانی قیادت میں شدید اختلافات اور بے چینی پائی جاتی ہے، ایرانیوں کو خود نہیں معلوم ان کا لیڈر کون ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ امریکی وفد سے ملاقات کیے بغیر اسلام آباد سے عمان کیلئے روانہ ہو گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کا وفد نور خان ائیربیس سے واپس روانہ ہوا، اس موقع پر پاکستانی اعلیٰ حکام، ایرانی سفیر اور ایرانی سفارت خانہ کے عہدیدارو نے وفد کو الوداع کہا۔ ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں روسی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد سے ملاقات کی تصاویر شیئر کردیں۔ وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد سے ملاقات میں علاقائی صورتحال پر خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایرانی وفد سے ملاقات پر خوشی ہوئی۔ایرانی وفد آج دورہ پاکستان کے بعد واپس روانہ ہوگیا ہے۔
