اسلام آباد:
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سولر سے متعلق ریلیف دینے کے سوال پر وزیر مملکت بلال کیانی نے پی ٹی آئی رکن شہریار آفریدی کو لاجواب کر دیا۔
اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے بار بار کورم کی نشاندہی کی مگر اسپیکر نے پہلے نظر انداز کیا اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کو بولنے کا موقع دیا۔
اقبال آفریدی کے مسلسل شور پر اسپیکر نے اقبال آفریدی کو مائیک دے دیا، اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کی جس پر اسپیکر نے گنتی شروع کروا دی جس کے بعد کورم مکمل ہونے تک اجلاس کی کاروائی معطل کی گئی۔
کورم مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ثمینہ خالد گھرکی نے سوال کیا کہ سولر کی امپورٹ میں انڈر انوائسنگ کے کیسز کو کیسے چیک کیا جاتا ہے؟ وزیر مملکت بلال کیانی نے جواب دیا کہ ایف بی آر کے مطابق سولر میں انڈر انوائسنگ نہیں کی گئی۔
پی ٹی آئی رکن شہریار آفریدی نے سوال کیا کہ حکومت عام آدمی کو سولر میں کیا ریلیف دینے جا رہی ہے؟
وزیر مملکت بلال کیانی نے جواب دیا کہ ہم عوام کے ساتھ وہ نہیں کرنے جا رہے جو آپ کی حکومت نے کیا تھا، حکومت سولر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور محدود وسائل کے باوجود حکومت نے 129 ارب روپے کی سبسڈی دی۔
