پاکستان کی معیشت، منزل کہاں؟،تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق

پاکستان کی معیشت، منزل کہاں؟

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

 

 

پاکستان کی معیشت کے بارے میں آج یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک ایک طویل بحران کے بعد استحکام کی طرف واپس آ رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کسی حد تک کم ہوا ہے اور حکومت مالی نظم و ضبط کو اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ مگر بازار، گھر کا بجٹ اور روزمرہ زندگی ایک مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔

عام شہری کے لیے معیشت کی کامیابی کا پیمانہ اسٹاک مارکیٹ، سرکاری اعداد و شمار یا غیر ملکی ذخائر نہیں بلکہ اس کی ماہانہ آمدنی اور اخراجات کا توازن ہے۔ اگر تنخواہ وہی رہے، مگر آٹا، بجلی، گیس، کرایہ، تعلیم اور علاج مسلسل مہنگے ہوتے جائیں تو معاشی استحکام کا تصور اس کے لیے محض ایک سرکاری اصطلاح بن کر رہ جاتا ہے۔

پاکستان نے حالیہ برسوں میں بحران سے نکلنے کے لیے سخت مالی اقدامات کیے ہیں۔ درآمدات کو محدود کیا گیا، اخراجات پر دباؤ بڑھایا گیا، ٹیکس وصولی میں اضافہ کیا گیا اور توانائی کی قیمتوں کو حقیقت کے قریب لانے کی کوشش ہوئی۔ ان اقدامات سے فوری مالی دباؤ کم ہوسکتا ہے، لیکن ان کا دوسرا رخ کاروبار، روزگار اور گھریلو قوتِ خرید پر پڑنے والا اثر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ معاشی استحکام اور معاشی خوشحالی کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک ملک دیوالیہ ہونے سے بچ سکتا ہے، اس کے ذخائر بہتر ہوسکتے ہیں اور قرض کی قسطیں وقت پر ادا ہوسکتی ہیں، مگر اسی دوران شہریوں کی حقیقی آمدنی کم ہوسکتی ہے۔ بحران ٹل جانا کامیابی ہے، لیکن بحران کے بعد زندگی بہتر بنانا اس سے کہیں بڑا امتحان ہے۔

غربت کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے اس تضاد کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ جب روزگار کی رفتار آبادی میں اضافے کا مقابلہ نہ کرسکے اور مہنگائی کم آمدنی والے طبقے کی بچت ختم کردے تو متوسط گھرانے بھی آہستہ آہستہ مالی مشکلات کی طرف چلے جاتے ہیں۔ یوں غربت صرف بے روزگار شخص کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ تنخواہ دار خاندان بھی غیر یقینی مستقبل کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

پٹرول کی قیمت اس پورے مسئلے کی شاید سب سے نمایاں مثال ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کا اثر صرف موٹر سائیکل یا گاڑی کے مالک تک محدود نہیں رہتا۔ سامان کی ترسیل، پبلک ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور دکان تک پہنچنے والی ہر چیز کی لاگت متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً ایک قیمت میں اضافہ کئی دوسری قیمتوں کو بھی اوپر دھکیل دیتا ہے۔

حکومت کے لیے پٹرول سستا رکھنا بھی آسان نہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو تو درآمدی بل بڑھتا ہے اور سبسڈی دینے سے سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے کم آمدنی والے شہریوں کو براہ راست تحفظ کیسے دیا جائے، تاکہ توانائی کی حقیقی قیمت بھی برقرار رہے اور غریب گھرانہ بھی اس بوجھ تلے نہ دبے۔

ٹیکس نظام میں بھی یہی سوال سامنے آتا ہے۔ پاکستان کو زیادہ ٹیکس آمدنی کی ضرورت ہے، لیکن ٹیکس بڑھانے کا مطلب صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدنی پر فوری ٹیکس دیتا رہے جبکہ معیشت کے بڑے حصے مکمل طور پر دستاویزی نہ ہوں تو ٹیکس کا نظام عوام کو منصفانہ محسوس نہیں ہوگا۔

ڈیجیٹل معیشت اس حوالے سے ایک نئی آزمائش ہے۔ فری لانسرز، یوٹیوبرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور ڈیجیٹل تخلیق کار پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ پیدا کرسکتے ہیں۔ اس شعبے کو صرف محصول جمع کرنے کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اسے سہولت، تربیت، آسان بینکاری اور عالمی ادائیگیوں کے بہتر نظام کے ذریعے ایک بڑی برآمدی صنعت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

خوراک کا مسئلہ بھی پالیسی کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ گندم جیسی بنیادی ضرورت کے بارے میں فیصلوں میں تاخیر، درآمد و برآمد کی غیر واضح پالیسی اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ پیدا کرتے ہیں۔ جب بنیادی خوراک مہنگی ہوتی ہے تو سب سے پہلے کم آمدنی والا گھرانہ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ اس کی آمدنی کا بڑا حصہ پہلے ہی ضروری اشیا پر خرچ ہورہا ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ پاکستان کا ایک پرانا مسئلہ بھی موجود ہے: درآمدات کی ضرورت اور برآمدات کی کمزور صلاحیت۔ جب ملک کو توانائی، مشینری، خام مال اور دیگر اشیا کے لیے زیادہ ڈالر درکار ہوں لیکن برآمدی آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے تو بیرونی مالی مدد کی ضرورت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ یہی وہ چکر ہے جس سے نکلنا کسی بھی حکومت کے لیے بنیادی معاشی ہدف ہونا چاہیے۔

سرمایہ کاری کے وعدے بھی اسی تناظر میں دیکھنے چاہییں۔ ہر حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری، خصوصی اقتصادی زونز اور بڑے منصوبوں کا اعلان کرتی ہے، مگر اعلان اور حقیقی سرمایہ کاری میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ سرمایہ کار صرف سیاسی بیانات نہیں دیکھتا؛ وہ بجلی کی قیمت، ٹیکس قوانین، عدالتی نظام، پالیسی کا تسلسل اور کاروبار شروع کرنے میں آسانی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

اگر سرمایہ کار کو ہر چند ماہ بعد قوانین، ٹیکس یا کاروباری شرائط میں تبدیلی کا سامنا ہو تو وہ طویل مدتی منصوبہ بنانے سے گریز کرسکتا ہے۔ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے صرف بیرونی دوروں اور معاہدوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے اندر ایسا ماحول کب پیدا ہوگا جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار خود یہاں سرمایہ لگانے کو ترجیح دیں؟

معاشی مشکلات کا ایک اہم پہلو طبقاتی فرق بھی ہے۔ مہنگائی سب کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ ایک صاحبِ ثروت خاندان اپنی آمدنی کا معمولی حصہ خوراک اور توانائی پر خرچ کرتا ہے، جبکہ کم آمدنی والے گھرانے کی پوری ماہانہ آمدنی بنیادی ضروریات میں ختم ہوسکتی ہے۔ اسی لیے ایک ہی شرحِ مہنگائی مختلف طبقات پر بالکل مختلف اثر ڈالتی ہے۔

یہاں اشرافیہ کے مراعاتی نظام پر بحث بھی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ اگر اصلاحات کا مطلب عام شہری کے لیے زیادہ ٹیکس، مہنگی توانائی اور کم سرکاری سہولت ہو، جبکہ طاقتور طبقات اپنی مراعات برقرار رکھیں، تو معاشی پالیسی پر اعتماد کم ہوگا۔ اصلاحات اسی وقت قابل قبول بن سکتی ہیں جب ان کا بوجھ اور فائدہ معاشرے کے مختلف طبقات میں نسبتاً منصفانہ تقسیم ہو۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت سیاسی قیادت کے بیرون ملک دوروں پر بھی عوام سوال اٹھاتے ہیں۔ سفارتی اور معاشی رابطے حکومت کی ذمہ داری کا حصہ ہیں اور ایسے دوروں سے سرمایہ کاری یا تجارتی مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیکن عوامی توقع یہ ہے کہ بیرون ملک ملاقاتیں محض تصاویر اور اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے نتیجے میں قابلِ پیمائش معاشی فائدہ بھی سامنے آئے۔

پنجاب میں غربت اور روزگار کے مسئلے کو بھی صرف امدادی پیکجز سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ راشن یا نقد امداد فوری ضرورت پوری کرسکتی ہے، لیکن کسی خاندان کو مستقل طور پر بہتر زندگی دینے کے لیے روزگار، ہنر، تعلیم، صحت اور کاروباری مواقع درکار ہوتے ہیں۔ حکومت اگر نوجوانوں کو پیداوار اور روزگار سے جوڑ دے تو امداد پر انحصار خود بخود کم ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس وقت خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ سعودی سرمایہ کاری، مالی تعاون اور توانائی کے شعبے میں شراکت پاکستان کے لیے اہم مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ تاہم کسی ایک ملک یا چند بیرونی شراکت داروں پر غیر معمولی انحصار طویل مدت میں محدودیت پیدا کرسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے معاشی تعلقات کو مختلف عالمی منڈیوں تک پھیلائے۔

چین، خلیجی ممالک، یورپ، امریکا، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا ضروری ہے۔ ایک متنوع معاشی تعلقات کا نظام پاکستان کو کسی ایک ذریعے پر زیادہ انحصار سے بچا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ملک کے اندر ایسی پیداواری صلاحیت پیدا کرنا ہوگی جو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرسکے۔

آئی ایم ایف پروگرام نے پاکستان کو بارہا یہ یاد دلایا ہے کہ وقتی مالی سہارا مستقل معاشی حل نہیں ہوتا۔ قرض سے فوری بحران ٹالا جاسکتا ہے، مگر قرض واپس کرنے کے لیے ایسی معیشت درکار ہوتی ہے جو مسلسل آمدنی پیدا کرے۔ اگر ہر چند سال بعد نیا پروگرام شروع کرنا پڑے تو مسئلہ قرض کی رقم سے زیادہ معیشت کی ساخت کا بن جاتا ہے۔

اصل اصلاحات کا مرکز ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری اداروں، برآمدات، زراعت اور کاروباری ماحول ہونا چاہیے۔ بجلی کی چوری کم کرنا، سرکاری اداروں کے نقصانات گھٹانا، ٹیکس نیٹ وسیع کرنا اور برآمدی صنعت کو مسابقتی بنانا ایسے اقدامات ہیں جن کے نتائج ایک دن میں نہیں آئیں گے، مگر یہی اقدامات طویل مدت میں ملک کو بیرونی سہارے سے نکال سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ استحکام کو جمود نہ بننے دیا جائے۔ اخراجات کم کرنا اور درآمدات محدود کرنا بحران کے وقت ضروری ہوسکتا ہے، لیکن ہمیشہ یہی حکمت عملی ترقی پیدا نہیں کرتی۔ ملک کو ایک ایسے مرحلے میں جانا ہوگا جہاں نجی سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات معاشی سرگرمی کے نئے انجن بنیں۔

سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو معاشی استحکام چاہیے یا نہیں۔ استحکام بہرحال ضروری ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس استحکام کے بعد اگلا قدم کیا ہوگا؟ اگر معیشت صرف اگلی قرض کی قسط، اگلے مالیاتی پیکیج یا اگلے بیرونی سہارے تک پہنچنے کے لیے چلائی جاتی رہی تو بحران کی شکل بدل سکتی ہے، مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔

پاکستان کو ایسی معیشت درکار ہے جس میں ذخائر مضبوط ہونے کے ساتھ لوگوں کی آمدنی بھی بڑھے، برآمدات بڑھنے کے ساتھ روزگار بھی پیدا ہو، ٹیکس وصولی میں اضافے کے ساتھ انصاف بھی نظر آئے اور بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی کاروبار بھی ترقی کرے۔ معاشی استحکام کی اصل آزمائش سرکاری اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس دن ہوگی جب ایک عام پاکستانی اپنے گھر کے بجٹ کو دیکھ کر یہ کہہ سکے کہ ملک کی معیشت واقعی بہتر ہوئی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top