کتابوں کا بوجھ اور معصوم بچے  اور تعلیم…… تحریر:ارشاد احمد شاد

کتابوں کا بوجھ اور معصوم بچے  اور تعلیم…… تحریر:ارشاد احمد شاد
بچپن زندگی کا سب سے حسین دور ہوتا ہے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب بچے اپنی شرارتوں سے گھر میں رونق لگائے رکھتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں مگر افسوس کہ آج کے دور میں بچپن آہستہ آہستہ کتابوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔ ننھے بچوں کے کندھوں پر لٹکے بھاری بستے دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ صبح سویرے نیند بھری آنکھوں کے ساتھ اسکول جانا، ہوم ورک اور ٹیوشن کا دبا یہ سب کچھ بچوں سے ان کی خوشیاں چھین لیتا ہے۔ والدین یہ بات بھول جاتے ہیں کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچوں کے لیے سیروتفریح بھی ضروری ہے اگر بچپن بے رونق ہو تو بڑے ہو کر زندگی ادھوری لگتی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ ہرگز نہیں کہ بچہ کتابوں کو بوجھ سمجھنے لگے یا علم حاصل کرنا اس کے لیے کسی عذاب یا دبا کی صورت اختیار کر لے۔ تعلیم انسان کی شخصیت کو سنوارنے، اس کی سوچ کو بدلنے اور اسے دنیا کو بہتر انداز میں سمجھنے کا طریقہ ہے۔ تعلیم انسان کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے اسے اپنے فیصلے خود کرنے کی ہمت دیتی ہے اور اس کی سوچ کو بدلتی ہے۔ایک اچھا تعلیمی نظام وہ ہوتا ہے جو بچے کو خوف اور دبا کے بجائے شوق اور دل چسپی کے ساتھ سیکھنے کی طرف لے جائے جہاں وہ سوال پوچھنے سے کبھی نہ گھبرائے۔ اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کے لیے بہتر ہی چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ بچہ ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ بنے یا کسی بڑے اور معتبر مقام تک پہنچے۔ انہی خواہشات کی وجہ سے بچوں کے اپنے خواب پورے نہیں ہو پاتے۔ وہ روزانہ اسکول بھی جاتا ہے، سبق بھی یاد کرتا ہے مگر اندر ہی اندر لڑ رہا ہوتا ہے لیکن اپنی دل چسپی اور خواہش کو اکثر کھل کر بیان نہیں کر پاتا۔ ایسے میں سمجھنے کے بجائے رٹنے کا سہارا بڑھنے لگتا ہے کیوں کہ دبا زیادہ اور ذہنی سکون کم ہوتا ہے۔ یہ دبا صرف اسکول تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھر کی فضا بھی اس کا حصہ بن جاتی ہے۔ اکثر والدین اپنے بچوں سے یہ جملے کہتے ہیں، تم نے چوبیس گھنٹے پڑھنا ہے، جماعت میں اول آنا ہے، دوسرے بچوں کو دیکھو، تمھیں ڈاکٹر بننا ہے۔ یہ باتیں بچے کے دل پر ایک ایسا بوجھ ڈال دیتی ہیں جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ بچہ کامیابی کو اپنے خوابوں سے نہیں بلکہ دوسروں کی توقعات سے جوڑنے لگتا ہے۔ یوں اس کی اپنی خواہشیں کہیں اندر ہی اندر دب جاتی ہیں۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کامیابی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ کیا کامیابی صرف اچھی نوکری اور اونچے مقام کا نام ہے یا وہ انسان کامیاب ہے جو اپنے خوابوں کو پورا کرتا ہے۔ بچے کی پہلی درس گاہ ماں ہوتی ہے اور سب سے اثر انداز استاد والدین ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جیسے ہی بچہ بولنے اور سمجھنے کے قابل ہوتا ہے ہم اسے اسکول کے حوالے کر دیتے ہیں مگر اس کی اصل تربیت تو گھر کے ماحول سے شروع ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ کتابیں نہیں بلکہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ ہمیں اپنے نصاب کو مشکل نہیں بلکہ سہل اور بامقصد بنانا ہو گا تاکہ بچے کتابوں کو بوجھ نہ سمجھیں۔ جب پھول جیسے بچوں پر مسلسل دبا ڈالا جاتا ہے تو وہ نہ صرف جسمانی طور پر تھک جاتے ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی بوجھ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ان کے چہروں کی معصومیت دبا کی نذر ہو جاتی ہے۔ بچوں پر ہوم ورک کا غیر ضروری بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں وہ چیزیں سکھائی جائیں جو ان کی عمر کے مطابق ہوں۔ اگر پڑھانے کا انداز دل چسپ اور عملی ہو تو بچہ ہر چیز شوق سے سیکھتا ہے۔ اگر بچہ مسلسل کتابوں اور ہوم ورک میں الجھا رہے تو اس کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ سختی کے بجائے نرمی سے پیش آئیں۔ تعلیم کا مقصد صرف ٹاپ کرنا نہیں بلکہ ایک باشعور اور پراعتماد انسان بنانا ہے۔

کتابوں کا بوجھ اور معصوم بچے  اور تعلیم...... تحریر:ارشاد احمد شاد
کتابوں کا بوجھ اور معصوم بچے  اور تعلیم…… تحریر:ارشاد احمد شاد

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top