90 کی دہائی کی زرد صحافت نے زندگی متاثر کی، روینہ ٹنڈن

90 کی دہائی کی زرد صحافت نے زندگی متاثر کی، روینہ ٹنڈن
ماضی میں اگر کوئی منفی خبر شائع ہو جاتی تو فنکار خاموشی سے برداشت کرتے ، اب سوشل میڈیا کے ذریعے فورا وضاحت دیتے ہیں، بالی ووڈ اداکارہ
ممبئی (وائس آف ایشیا) بالی ووڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن نے 90 کی دہائی میں شوبز شخصیات کے خلاف ہونے والی زرد صحافت پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دور میں جھوٹی یا منفی خبروں کا ازالہ کرنا تقریبا ناممکن تھا اور ایک بار نقصان ہو جاتا تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا تھا۔53سالہ اداکارہ نے ایک انٹرویو میں ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا موجود نہیں تھا، اس لیے فنکاروں کے پاس اپنی بات براہِ راست عوام تک پہنچانے کا کوئی موثر ذریعہ نہیں ہوتا تھا۔
روینہ ٹنڈن نے کہا کہ اس وقت زرد صحافت پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، اگر کسی اخبار یا میگزین میں کوئی منفی خبر شائع ہو جاتی تو فنکار صرف خاموشی سے برداشت کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں انسٹاگرام یا سوشل میڈیا کے ذریعے فنکار فوری طور پر وضاحت دے سکتے ہیں، لیکن 90 کی دہائی میں ایسا ممکن نہیں تھا۔اداکارہ کے مطابق اس وقت ایڈیٹرز تک رسائی بھی بہت اہم سمجھی جاتی تھی کیونکہ وہی طے کرتے تھے کہ کسی خبر کو کس انداز میں پیش کیا جائے گا۔

روینہ ٹنڈن نے کہا کہ اگر آپ ایک نجی شخصیت تھے تو آپ کو سکون سے جینے کی اجازت ہی نہیں دی جاتی تھی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثر منفی سرخیاں شائع ہونے کے بعد چھوٹا سا معذرتی نوٹ دے دیا جاتا تھا، لیکن تب تک نقصان ہو چکا ہوتا تھا۔اداکارہ نے کہا کہ اصل نقصان تو بڑی ہیڈ لائن کر دیتی تھیں، بعد کی معذرت بے معنی محسوس ہوتی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top