واشنگٹن (وائس آف ایشیا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس تمام کارڈز موجود ہیں ایرانیوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، ایرانی قیادت میں شدید اختلافات اور بے یقینی پائی جاتی ہے۔ ایکس پرٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلام آباد جانے والے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔
ایران حکام سے ملاقات کیلئے امریکی وفد کو پاکستان جانا تھا،ہمیں بہت کام ہیں لیکن سفر میں ہمارا وقت بہت ضائع ہورہا تھا۔ ایرانی قیادت میں شدید اختلافات اور بے یقینی پائی جاتی ہے، ایرانیوں کو خود بھی معلوم نہیں کہ ان کا لیڈر کون ہے؟ کسی کو معلوم نہیں کہ اصل میں فیصلہ کون کر رہا ہے، حتیٰ کہ انہیں خود بھی نہیں۔ ہمارے پاس تمام کارڈز موجود ہیں ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
اگر ایرانی حکام بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کال کریں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایگزیوس کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفد پاکستان بھیجنے کا یہ مطلب نہیں کہ جنگ دوبارہ کی جائے گی۔
دوسری جانب نمائندہ فاکس نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی مذاکراتی وفد کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی وفد سے ملاقات کے بغیر ہی ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد سے عمان روانہ ہو جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی وفد 18 گھنٹے سفر کر کے بے مقصد باتوں کیلئے وہاں جا کر نہیں بیٹھے گا، ایرانی جب چاہیں فون پر رابطہ کر سکتے ہیں، ایران کے ساتھ تنازعے میں تمام برتری امریکا کے پاس ہے، تمام کارڈز ہمارے ہاتھ میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ دورہ اسلام آباد منسوخی کا مطلب جنگ نہیں ہے، ابھی ہم نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا، ایرانی قیادت میں شدید اختلافات اور بے چینی پائی جاتی ہے، ایرانیوں کو خود نہیں معلوم ان کا لیڈر کون ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ امریکی وفد سے ملاقات کیے بغیر اسلام آباد سے عمان کیلئے روانہ ہو گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کا وفد نور خان ائیربیس سے واپس روانہ ہوا، اس موقع پر پاکستانی اعلیٰ حکام، ایرانی سفیر اور ایرانی سفارت خانہ کے عہدیدارو نے وفد کو الوداع کہا۔
ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں روسی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد سے ملاقات کی تصاویر شیئر کردیں۔ وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد سے ملاقات میں علاقائی صورتحال پر خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں تبادلہ خیال ہوا۔
ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایرانی وفد سے ملاقات پر خوشی ہوئی۔ایرانی وفد آج دورہ پاکستان کے بعد واپس روانہ ہوگیا ہے۔
وزیراعظم سے ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔
ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے کے امور بھی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی۔ ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پاکستان آمد کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔
