لاہور کی طرح سرائیکی وسیب میں فلم سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے, ظہور دھریجہ

لاہور کی طرح سرائیکی وسیب میں فلم سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، ثقافتی استحصال کے خلاف مزاحمت کریں گے ، ہمارے فنکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت دنیا میں نام روشن کیا ہے، وسیب کے فنکاروں سے سوتیلی ماں کا سلوک بند ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان وطن پارٹی کے چیئرمین ظہور دھریجہ ، سرائیکی فلم ڈائریکٹر احسن فریدی ، سرائیکی فلمسٹار اکرم نظامی اور اکبر جلالی نے دھریجہ نگر میں ملاقات کے دوران مشترکہ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب کو نظر انداز کر کے لاہور میں 50 ایکڑ رقبے پر فلم سٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، سرائیکی وسیب کے ٹیکسوں سے بننے والا یہ اربوں روپے کا منصوبہ ہے جو کہ پسماندہ سرائیکی وسیب کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ سرائیکی وسیب کو فلم، ٹی وی، اینیمیشن اور ڈیجیٹل میڈیا ، وی ایف ایکس اور پوسٹ پروڈکشن کے لیے جدید سہولیات ، جدید اسٹوڈیوز، سائونڈ اسٹیج اور پوسٹ پروڈکشن لیبز دینے کی ضرورت تھی مگر سب کچھ لاہور کو دیا جا رہا ہے۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ سرائیکی وسیب میں بنیادی انسانی مسائل حل نہیں کئے جا رہے جبکہ لاہور میں ایسے منصوبے بنائے جا رہے ہیں جن کی ماہانہ سبسڈی ہی اربوں روپے میں ہے، اس طرح کے استحصالی نظام کو تسلیم نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی کلچر پالیسی نہیں ، اس طرح کی ثقافتی پالیسی ترتیب دی جائے جو سب سے مساویانہ سلوک اور انصاف پر مبنی ہو۔ احسن فریدی نے کہا کہ سرائیکی وسیب کے فنکار مشکلات کا شکار ہیں ، سائونڈ ایکٹ نے فنکاروں کے چولہے ٹھنڈے کر دئیے ہیں، رائٹرز ویلفیئر فنڈ میں وسیب کے فنکاروں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، سائونڈ ایکٹ ختم ہونا چاہئے۔ اکرم نظامی نے کہا کہ سرائیکی فنکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ، سرائیکی فنکاروں کی خدمات کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وسیب کے فنکار قدم قدم پر مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح لاہور میں 50ایکڑ پر فلم سٹی بنایا جا رہا ہے اسی طرح سرائیکی وسیب میں بھی فلم سٹی بننا چاہئے۔ اکبر جلالی نے کہا کہ گزشتہ سال پنجاب حکومت کی طرف سے لاہور کے فنکاروں میں کروڑوں روپے تقسیم کئے گئے جبکہ پسماندہ سرائیکی وسیب کے فنکاروں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ سرائیکی وسیب کے ہر ضلع میں آرٹس کونسلیں بننی چاہئیں ، منظوری کے باوجود رحیم یار خان آرٹس کونسل نہیں بنائی جا رہی ، بہاول پور میں آرٹس کونسل کی نئی بلڈنگ کو فوری فنکشنل ہونا چاہئے۔ اس موقع پر مقصود احمد دھریجہ ، حاجی عید احمد دھریجہ، زاہد اسلم دھریجہ و دیگر موجود تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top