سوات، 14 سالہ فرحان قاریوں کے ہاتھوں تشدد سے قتل

3 جانوروں نے بچے کو کمرے میں بند کیا اور پھر اس کے بعد وہ ہوا جسے سن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے لائق ہیں؟….
سوات کی وادی — جسے پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے ، اس کے ایک چھوٹے سے قصبے خوازخیلہ میں 14 سالہ فرحان ایاز ایک عام گھرانے کا بچہ تھا۔ ماں باپ نے اسے مدرسے میں اس لیے بھیجا تھا کہ وہ دین سیکھے، قرآن پڑھے، اچھا انسان بنے۔ یہ وہی خواب تھا جو لاکھوں پاکستانی والدین دیکھتے ہیں — کہ ان کا بچہ عالم بنے، روشنی پھیلائے۔ لیکن اس دن فرحان مدرسے نہیں آیا — شاید بیمار تھا، شاید کوئی اور وجہ تھی — اور یہی “غیر حاضری” اس کی موت کا سبب بن گئی۔ جب وہ اگلی بار مدرسے پہنچا تو تین اساتذہ نے اسے پکڑ لیا — اور پھر شروع ہوا وہ سلسلہ جو پانچ گھنٹے تک جاری رہا اور جس کا انجام ایک ل اش تھی۔ فرحان کا قصور؟ صرف ایک دن غیر حاضر رہنا۔
پانچ گھنٹے — یہ وقت ذہن میں رکھیں۔ 300 منٹ۔ ایک بچے پر تین بالغ مردوں کا تشدد۔ رپورٹس کے مطابق فرحان ایاز کو مدرسے کے اندر بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا — ڈنڈے، لاتیں، مکے — اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک بچے کے جسم نے ساتھ دینا بند نہ کر دیا۔ سب سے تکلیف دہ سوال یہ ہے کہ پانچ گھنٹوں میں کیا کوئی نہیں آیا؟ کیا کسی نے آواز نہیں سنی؟ کیا کوئی بچانے والا نہیں تھا؟ یہ واقعہ صرف تشدد کی کہانی نہیں — یہ ایک مکمل نظام کی ناکامی کی کہانی ہے جہاں بچہ چیختا رہا اور دیواریں خاموش رہیں۔ فرحان کو جب گھر پہنچایا گیا — یا اسپتال لے جایا گیا — تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ ایک ماں کی گود خالی ہو گئی — صرف اس لیے کہ تین “معلم” اپنا غصہ ایک بچے پر نکالتے رہے۔
ایک ذمہ دار صحافتی رویہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم صرف ایک طرف نہ کھڑے ہوں — اس لیے یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ پاکستان کے لاکھوں مدارس میں لاکھوں بچے دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ہر مدرسہ ایسا نہیں۔ بہت سے مدارس غریب بچوں کو مفت تعلیم، کھانا اور رہائش دیتے ہیں جو ریاست دینے میں ناکام ہے۔ لیکن — اور یہ بہت بڑا “لیکن” ہے — فرحان ایاز کا ق ت ل کوئی “انفرادی واقعہ” نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ مسئلہ نظریہ کا نہیں — مسئلہ نگرانی کے فقدان کا ہے۔ جس ادارے میں بچے پڑھتے ہیں — چاہے سرکاری سکول ہو، پرائیویٹ ہو یا مدرسہ — وہاں ریاست کی آنکھ ہونی چاہیے۔ اساتذہ کی ٹریننگ ہونی چاہیے۔ شکایت کا نظام ہونا چاہیے۔ فرحان کو انصاف دینا اور مدارس کو یکسر برا کہنا — یہ دو الگ باتیں ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ قاتلوں کو سزا ملے — پورے نظام کو نہیں، مخصوص مجرموں کو۔
فرحان ایاز اب واپس نہیں آئے گا — لیکن اگر ہم نے ابھی آواز نہ اٹھائی تو اگلا فرحان کہیں اور پیدا ہو رہا ہے۔ ہر پاکستانی شہری اپنے بچوں سے پوچھے — “کیا تمہارا استاد تمہیں مارتا ہے؟” — کیونکہ خاموشی بھی جرم ہے۔ فرحان کی ماں کا درد ہم واپس نہیں کر سکتے — لیکن انصاف کا مطالبہ کر کے ہم کم از کم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اس بچے کی موت رائیگاں نہیں گئی۔
-جو ہاتھ تعلیم دینے کے لیے اٹھے — اور ق ت ل کر گئے — وہ ہاتھ استاد کے نہیں، قاتل کے ہیں۔ اور قاتل کی جگہ جیل ہے، مدرسہ نہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top