ملتان( ) سماجی تنظیم ایکشن اگینسٹ پاورٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سرفراز کلیمنٹ نے کہا ہے کہ مسیحی میرج ایکٹ 1860ءکا قانون ہے جو موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اس قانون میں کئی ایسی خامیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے مسیحی برادری کو مختلف قانونی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے حکومت مسیحی میرج ایکٹ میں فوری اصلاحات کرے تاکہ اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اقلیتی سماجی رہنماءشہزاد فرانسس اور ڈیوڈ قمر بھی ہمراہ تھے اس موقع پر مقررین نے مزید کہا ہے کہ موجودہ قانون میں شادی کی رجسٹریشن، طلاق، وراثت اور دیگر خاندانی معاملات کے حوالے سے واضح اور جامع شقیں موجود نہیں ہیں جس کے باعث مسیحی شہریوں کو مشکلات پیش آتی ہیں سرفراز کلیمنٹ نے کہا کہ انسانی حقوق کے تقاضے ہیں کہ تمام اقلیتوں کو مساوی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے انہوں نے حکومت، قانون ساز اداروں اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ مسیحی برادری کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر ایسا جدید اور موثر قانون بنایا جائے جو موجودہ سماجی حالات کے مطابق ہو انہوں نے مزید کہا کہ ایک جدید میرج ایکٹ نہ صرف مسیحی برادری کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا بلکہ معاشرتی انصاف کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
